مفتی مالوہ مولانا ولی اللہ صدیقی کا انتقال پُر ملال

انتقال پُر ملال
اندور14اپریل (نیا نظریہ بیورو) مسلم سماج کے قومی سطح کے عالم دین ہو گیا ۔ مرحوم صحافی طاہر کمال صدیقی کے والدیونانی حکیم (طبیب) بھی تھے۔ انہیں طبی خدمات کے پیش نظر سابق وزیر صحت جناب مہندر ہارڈیا نے لائف ٹائم اچیو منٹ ایوار ڈ سے نوازا تھا ۔اس کے علاوہ انہیں دیگر کئی اعزازت سے بھی نوازا گیا تھا ۔دولت گنج اتحاد پنچایت کی تنصیب اور ہندو مسلم اتحاد اور بھائی چارے کے لئے بھی انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ کچھ دنوں سے وہ علیل تھے ۔ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی صوبہ کے مسلمانوں میں غم چھا گیا ہے، جس نے بھی ان کے انتقال کی خبر سنی رو پڑا۔ آزادنگر قبرستان میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔ا ن کے انتقال پر کئی لوگوں نے خراج عقیدت پیش کی ۔ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جس پر خاندان، برادری فخر کرتی ہے ۔مفتی مالوہ حضرت مولانا ولی اللہ ندوی صاحب ایسی ہی شخصیت کے مالک تھے ۔جن پر سماج، پوری ملت فخر کرتی ہے، انہوں نے بے پناہ عزت کمائی۔ صبح اندور اور مالوہ کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑی غم کی خبر لے کر آئی۔ معلوم ہوا کہ مفتی مالوہ 85 سال کی عمر میں اس دار فانی کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ گئے ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دید ہ ور پیدا
مفتی مالوہ صاحب تعلیم پر بہت زیادہ زور دیتے تھے ۔ طالب علموں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ اخلاق کردار کا پیغام ہمیشہ دےتے تھے ۔سماج میں پھیلی رسم رواج اورفضول خرچی کو روکنے کے لئے بہت کوشش کرتے ر ہے ۔یونانی کے ماہر بھی تھے۔ بڑے حکیموں اور وےدوں میں آپ کا شمار ہو تا تھا ۔پتھری جیسے دیگر مرض کی زبردست دوا اور دعا دونوں ان سے ملتی تھی ۔ واقعی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔