حکومت کے دعوے کی کھلی پول:


راجدھانی کے نیاپورہ علاقے میں عوام فاقہ کشی پرمجبور،سرکاری ہیلپ لائن پرکوئی جواب نہیں
بھوپال:14اپریل(نیانظریہ بیورو)
عالمی خطرناک وباءکورونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک میں لاک ڈاو¿ن ہے ، اب اس لاک ڈاو¿ن میںمزید 3 مئی تک توسیع کردی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے روزی روٹی کا بحران مزیدگہراہوتارہاہے ۔اس کاسب سے زیادہ اثرغریب اورمتوسط طبقے پرپڑرہا ہے۔ ان غریبوں کو روزگار اور آمدنی کے لئے کوئی تعاون حاصل نہیں ہے۔ غریب مزدوروں کے پاس جو کچھ تھا وہ سب ختم ہوچکا ہے۔ جس کی وجہ سے اب لوگ دو وقت کے کھانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔راجدھانی کے نیا پورہ علاقے کی بستی میں رہنے والے لوگوں کو دن میں ایک وقت کی روٹی کے لئے بھی بحران شروع ہوگیاہے۔ اس بستی میں زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو لوگوں کے گھروں میں کام کرتے ہیں اور روزانہ کی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں ۔بستی میں رہ رہی ایک خاتون منیا بائی کا کہنا ہے کہگزشتہ کئی دنوں سے گھرمیں راشن نہیں ہے ، وہ بیمار ہے اور دوا تک نہیں لے پارہی ہےں ، کیونکہ اب وہ باہر کام کرنے نہیں جاپارہی ہےں ۔ اس وجہ سے وہ فاقہ کشی کا شکار ہے،جوکچھ ان کے پاس تھا سب ختم ہو گیا ہے۔اس دوران انتظامیہ کی طرف سے بھی کوئی مدد فراہم نہیں کی جارہی ہے۔وہیں علاقے کے دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کی طرف سے ہیلپ لائن نمبرپر کال کی جاتی ہے ، یا تو کوئی فون نہیں اٹھاتا ، یا وہاں سے کوئی جواب نہیں دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ غریب مزدور اپنا مسئلہ کسے بتائے۔ یہ تشویش کی بات ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ہم کورونا وائرس کے بارے میں فکر نہیں کررہے ہیں بلکہ بھوک کی فکر کررہے ہیں ، ان مزدوروں کامزید کہنا ہے کہ انہیں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، لیکن ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔سرکار نے جوراشن پہنچانے کے لئے ہیلپ لائن نمبرجاری کیا ہے،اس سے کوئی فائدہ نہیں ہورہاہے۔اس وقت پوری بستی میں لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں۔