کورونا انفیکشن سے روک تھام کےلئے اے ٹی ایم کی بھی کی جارہی سینٹائزنگ


بھوپال:12اپریل(نیانظریہ بیورو)
کورونا انفیکشن کے مشکل وقت میں پولیس انتظامیہ اور محکمہ صحت کے ملازمین کے علاوہ نجی سیکیورٹی گارڈ بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اے ٹی ایم پر تعینات سیکیورٹی گارڈ وقتا فوقتا اے ٹی ایم کی صفائی (سینیٹائز)کر رہے ہیں۔ تاکہ لوگ اس کے ذریعہ انفیکشن کا شکار نہ ہوں۔ تاہم راجدھانی میں صرف 40 فیصد اے ٹی ایم میں سیکیورٹی گارڈ تعینات ہیں۔ ریاست میں 952 نجی سیکیورٹی ایجنسیاں رجسٹرڈ ہیں۔ جس کے ساتھ ہی تقریبا 5 5 لاکھ افراد معاش پر گامزن ہیں۔راجدھانی ہی میں ایک اندازے کے مطابق 15000 سیکیورٹی گارڈ سیکیورٹی اداروں سے وابستہ ہیں۔ ان سکیورٹی گارڈز کو کورونا بحران کے دوران لاک ڈاو¿ن سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بہت سے دفاتر میں آدھے سیکیورٹی گارڈز کو ایک دن کے علاوہ ڈیوٹی پر بلایا جارہا ہے ، لیکن سیکیورٹی ایجنسیوں نے اپنے محافظوں کو ماسک ، صفائی رکھنے کے لئے سینیٹائزبھی مہیا کردیئے ہیں۔
راجدھانی میں سیکیورٹی ایجنسی کے بہت سارے آپریٹرز نے قواعد اور کورونا انفیکشن کے خطرے کو نظر انداز کرتے ہوئے 60 سال کی عمر تک کے بزرگوں سے منسلک ہوگئے ہیں۔ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن میں تعینات 57 سالہ سیکیورٹی گارڈ ، للمن دوبے کا کہنا ہے کہ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے انہیں روزانہ 6 کلو میٹر تک سائیکل پر سوار ہونا پڑتا ہے۔ ایسے بہت سارے سیکیورٹی اہلکاراسی پوزیشن میں ہیں۔ نقل و حرکت میں پولیس کی مداخلت نہیں ہے ، لیکن ٹرانسپورٹ کا نظام بند ہونے کی وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سکیورٹی ایجنسیاں کررہی ہیںاستحصال:
ریاست میں کام کرنے والی بہت سی سکیورٹی ایجنسیاں گارڈز کا زبردست استحصال کررہی ہیں۔ سیکیورٹی گارڈز کوبھی پی ایف اور ای ایس آئی سی کا فائدہ نہیں دے رہے ہیں۔ شہر کے ایک شاپنگ کمپلیکس میں تعینات سیکیورٹی گارڈ دیپک سنور کا کہنا ہے کہ وہ 1 سال سے کام کر رہا ہے ، لیکن نہ ہی پی ایف اور نہ ہی ای ایس آئی سی کافائدہ مل رہاہے۔
وہیںسنٹرل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکیورٹی انڈسٹری کے مدھیہ پردیش یونٹ کے صدر کیپٹن وی پی سنگھ کا کہنا ہے کہ کورونا میں تبدیلی کے دوران ابھی تک کوئی بھی سیکیورٹی گارڈ پوری ریاست میں نہیں لگا ہے اور صرف دو فیصد سیکیورٹی گارڈ غیر حاضر ہیں۔ اور بھی لوگ ہیں جو اپنے گاو¿ں گئے تھے اور واپس نہیں آسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام بڑی سیکیورٹی ایجنسیوں نے اپنے محافظوں کو ادائیگی کردی ہے۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر لیبر ڈیپارٹمنٹ جیس مین علی نے موبائل پر گفتگو کے دوران کہا کہ ایسی ایجنسیوں کو پہلے ہی لاک ڈاو¿ن کے دوران ملازمین کی صحت کا خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اگر اس کے بعد کہیں سے بھی کوئی شکایت آئے گی۔ تواس پرتبادلہ خیال کیا جائے گا۔