لاک ڈاون میں میڈیانے اداکیا فرقہ وارانہ کردار


بھوپال:11اپریل(نیانظریہ بیورو)
اس وقت پوری دنیا میں کوروناوائرس کی شکل میں مصیبتوں کاپہاڑ ٹوٹاہواہے۔اس قدرتی آفت کے وقت بھی بھارت میں ، بد نظمی ، باہمی اختلافات ، فرقہ وارانہ تنازعات کھلے عام نظرآرہاہے۔ سیاست اورسیاسی زبان میں اپنی بات لوگوں کے سامنے رکھنے والے میڈیا گروپ اسے اس طرح کی تنازعات اورنفرت پھیلانے والے کسی بھی واقعہ کو ہوا دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑرہا ہے!
مرکز سے لے کر سلاوت پورہ تک کے واقعات پر کافی بحث و مباحثے کے بعد ، زہریلے تاثرات کو لوگوں تک پہنچانے میں معتصب میڈیانے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ اس کا اثر یہ ہواہے کہ سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچے والی خبروں نے عام زندگی میں ایک دوسرے کے درمیان لکیریں کھینچ دی ہے جوصاف نظرآنے لگاہے۔….!
لیکن تصویرکے دوسرے پہلو جس نے پوری انسانیت کوایک آس دی ہے،چاہے وہ کسی غیرمسلم میت کوکندھا دینے کامعاملہ ہویا غیرمسلموں کاپیٹ بھرنے میں مسلموں کی ملی تنظیموں کے ذریعہ انہیں راشن پہنچانے کامعاملہ ہوا،اس موقف کودکھانے میں یالوگوں تک پہنچانے میں خاص نظریہ پیش کرنے والے افراد نے اس کوئی دلچسپی نہیںدکھائی ، اور نہ ہی سیاسی لوگوں نے ان کہانیوں کو کسی طرح اپنے بیان میں شامل کیا…!
سیلاوت پورہ کے اس علاقے میں ، جہاں میڈیکل ٹیم پرحملے ہوئیے تھے ۔ اگلے ہی دن اسی ٹیم پر پھول نچھاور کیے گئے اوران کازورداراستقبال کیاگیا۔وہیںجونی اندور کے ایک ہندو خاندان کی ایک خاتون کے جنازے میں ہندوطبقے کے لوگ جب شریک نہیں ہوئے تو قرب وجوار کے مسلم نوجوانوں نے انہیں نہ صرف کندھادیابلکہ ہندو رسومات کے مطابق ان کی آخری رسم اداکیا۔اس کے علاوہ ایک دیگرواقعہ میں ایک ضرورتمند ہندو حاملہ عورت کو خون کی سخت ضرورت تھی،جسے کسی ہندوفرد نے نہیں دیابلکہ اس کی جان بچانے میں اپناتعاون پیش کرنے والا بھی ایک مسلمان ہی تھا،جنہوں نے بروقت اپنا خون دیکر
دیکر اس عورت کی جان بچائی …!
میڈیا ، جو معاشرے میں لوگوں کوایک دوسرے کاساتھ دینے میں معاون کردارہے،آج ان خوفناک چہرے نے لوگوں کوایک دوسرے سے دورکرنے کا قصوروار ہے ، اب میڈیالوگوں کے دلوں سے اپنا اعتماد
کھو رہا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پرجب اس طرح کی تصویرسامنے آئی تولوگوں نے اسے بے حدپسند کیا ،پھر لوگوں نے ہندوستان زندہ باد اور اس کے گنگا جمونی تہذیب کے نعرے بھی لگائے۔ ….!
ہمارے اخبارنے روزنامہ نیانظریہ نے کچھ ایسے ہی واقعات کو اورتصاویرکوجگہ دی ہے تاکہ ملک کی اصل روح اور اس کی ثقافت زندہ رہے …!
باکس
پھولوں کی بارش:
بھوپال ، ا±جین ، اندور ، دھار سمیت کئی شہروں سے آنے والی اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ تفتیش اور مشاورت کے لئے پہنچنے والی ٹیموں کی نہ صرف تائید کی جارہی ہے ، بلکہ انہیں پھول بھی دیئے جارہے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جارہی ہے۔
عورت کا جنازہ:
اندور کے ایک علاقے (جونی) میں ایک ہندو خاتون کی موت ہوگئی تھی۔جس میں مسلم نوجوانوں نے کندھادیکر اسے شمشان گھاٹ تک نہ صرف پہنچایابلکہ ان کی آخری رسوم بھی اداکی۔
تاکہ کوئی بھوکا نہ رہے:
لاک ڈاو¿ن کی صورتحال نے ہزاروں افراد کے سامنے کھانے کا بحران پیدا کیا ہے جو فٹ پاتھ پر رہتے ہیں ، اپنی روز مرہ کی ضرورت کوپوراکرنے کے لئے یومیہ اجرت پرکام کرتے ہیں ،جن کے پاس آج چولہا جلانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے،ایسے لوگوں کوراشن پہنچانے کاکام مسلم نوجوان کررہے ہیں۔اس طرح معاشرے میں بھوک کے شکار افرادکومسلم نوجوانوںایسے حالات میں مدد کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا اور
انہیں راحت پہنچایا۔….!
سرکاری مدد کے بعد سب سے بڑا نیٹ ورک پرانے بھوپال سے چلایا جارہا ہے ، جہاں موجود ساٹھ کچنوں سے کھانے کے پیکٹ 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ رہے ہیں…! مدد کے لئے اٹھائے گئے یہ اقدامات کسی کے مذہب یاذات کونہیں دیکھتا ، بلکہ یہ مدد ہر ضرورت مند تک پہنچائے جارہے ہیں۔
اُجین میں بھی نظرآئی انسانیت :
اجین نامدار پورہ شیتلا ماتاکی گلی میں ایک طویل علالت کے بعد ایک بوڑھے شخس کی موت ہوگئی۔ خاندان کی ایک لڑکی اورایک داماد ہی تھے اس کے علاوہ کوئی رشتہ دارسامنے نہیں آئے،
ایسے میں مسلم معاشرے کے لوگ ارتھی کاسامان لیکرآگے آئے اورہندوروایت کے مطابق ان کاآخری رسوم اداکیا۔
آصف کی عبادت:
لنیا پورہ میں رہائش پذیر حاملہ خاتون ، مالتی سیلاوٹ ، ایم وائی اسپتال میں داخل ہیں اور دوسری منزل پران کاعلاج چل رہاہے۔مالتی سیلاوٹ کی زچگی کے دوران جب ڈاکٹر نے کہا کہ خون زیادہ بہہ گیاہے اسے خون کی سخت ضرورت ہے۔توکوروناکے خوف سے اورلاک ڈاو¿ن کی وجہ سے کوئی خون دینے نہیں پہنچا۔ایسے میں آصف خان جومیڈیکل سے دوائی لینے آیاتھا، اس نے سنتوش کو اپنی اہلیہ مالتی کے لئے خون جمع کرنے کی وجہ سے پریشان دیکھا۔ آصف نے وجہ پوچھی۔ سنتوش نے اپنا مشکل بیان کیا۔آصف شب شب برات کی عبادت چھوڑکر ایک انجان بہن کی جان بچانے چلا گیا۔اورانہیں خون عطیہ کیا۔جس سے اس کی جان بھی بچ گئی۔