اس میں دوفوٹوہیں جامعہ ابوطلحہ کے زیراہتمام بیت بازی مقابلہ میں کیف بھوپالی کی ٹیم فاتح قرار

بھوپال:3دسمبر(پریس ریلیز)
راجدھانی کے ریلوے اسٹیشن واقع جامعہ ابوطلحہ سرائے سکندری میں پورے تزک واحتشام کے ساتھ طلبہ جامعہ ابوطلحہ کے درمیان مقابلہ ¿ بیت بازی منعقد ہوا۔ جلسہ کاآغاز متعلم محمدحذیفہ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔خطبہ استقبالیہ میں جامعہ ابوطلحہ کے ناظم تعلیمات مولاناصفوان قاسمی نے جامعہ کے ابتدائی نقوش ،تعلیم کے اغراض ومقاصدو تعمیری کام پرروشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ خاروں کے درمیان نشوونما پانے والی نرم خرام شاخ کس طرح ثمر آوردرخت کی شکل میں آج امت مسلمہ کے سامنے ہے،اورپانچ سالہ عالم فاضل کاکورس کیوں کرنوجوانان امت کے لئے ضروری اورمفید ہے۔
اس سے قبل مولانانے فرمایاکہ کسی بھی میدان میں کام کرنے کے لئے اس جگہ کی زبان پرقدرت بہت ضروری ہے۔انہوں نے مزیدفرمایاکہ اللہ تعالیٰ جب بھی کسی بنی کو کسی قوم کی طرف بھیجاتوانہیں کی زبان دے کربھیجا جووہ سمجھتے تھے،مثلاً اگرقوم سریانی زبان سمجھتی تھی تونبی کوبھی سریانی زبان عطاکی،اگرقوم عربی زبان سمجھتی تھی تونبی بھی عربی آئے،چونکہ ہمیں ہندستان میں رہ کرکام کرنا ہے اس لئے اردو زبان ہمارے لئے بے حدضروری ہے اوراسی کی ایک کڑی مقابلہ ¿ بیت بازی ہے،اس کے بعد مولانا نے تمام آنے والے مہمانوں کاپوری انجمن کی جانب سے شکریہ اداکیا۔
اس کے بعدفن شعر وشاعری اسلام کی نظرمیں کیااہمیت رکھتی ہے اس عنوان پرجامعہ کے مو ¿قر استاذ مفتی محمدطاہر قاسمی نے مختصر مگرجامع اندازمیں روشنی ڈالی ،مولانا کہا کہ ایک تصورہے جوانتہائی غلط ہے کہ جہاں بھی شعروشاعری کاتذکرہ آٹاہے وہ مذموم سمجھاجاتاہے حالانکہ اچھی شعروشاعری کوکوئی بھی اہل علم اوراہل عقل برانہیں کہہ سکتا،قرآن کریم میں سورہ شعراءمیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے دونوں طرح کے لوگوں کاتذکرہ کیا ہے جہاں اچھے شاعرکی تعریف کی ہے وہیں برے شاعر کی مذمت بھی کی ہے۔گفتگوکے دوران مولانانے مزید کہا کہ اچھے شاعر ہرزمانے میں اسلام کادفاع کرتے آئے ہیں ،ہاں اگرمضمون برا ہے توشعروشاعری مذموم ہوتی ہے۔
دریں اثنا،بیت بازی پروگرام کی صدارت استاذ شاعر جنا ب ضیافاورقی (سکریٹری منشی حسین خاں) نے انجام دی۔یہ مقابلہ دوٹیموں حضرت شعری بھوپالی،کیف بھوپالی کے درمیان منعقد ہوا۔ جس میں حکم کے فرائض ایازقمر،ڈاکٹر اعظم،قاضی ملک نوید نے انجام دئےے۔دونوں ٹیموں میں ڈیڑھ گھنٹے تک مقابلہ چلا،جس میں کل مساہمین کی تعداد 34تھی۔دونوں ٹیموں نے اچھے اشعار پیش کئے۔اخیرمیں اس بیت بازی مقابلہ میں کیف بھوپالی کی ٹیم نے جیت درج کی۔
وہیں پورے اجلاس کی عمومی سرپرستی مفتی محمدابوالکلام قاسمی (مہتمم جامعہ ابوطلحہ ومفتی شہربھوپال) نے فرمائی۔آپ نے تمام مہمانوں کاشکریہ اداکیااورفرمایاکہ طلبہ اصلاً اردو ادب کے طالب علم نہیں ہےں بلکہ یہ قرآن وحدیث کے طالب علم ہیں،نیز آپ نے کہا کہ شعر وشاعری اسلام کاایک حصہ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ نبی کے لئے مناسب نہیں تھالیکن نبی علیہ السلام نے شعرکہے اورشاعروں کی تعریف بھی کی ،جیساکہ اللہ کے رسول نے شاعراسلام حضرت حسان بن ثابتؓ کے بارے میں فرمایا کہ یہ عطیہ ہیں،مولاناموصوف نے مزیدفرمایہ چاہے آپ پوری کتاب لکھ دیںلیکن وہ پوری کتاب ایک شعر کے اندرآسکتی ہے،یہ صلاحیت شعرکے اندرہوتی ہے ۔اسی لئے ہم لوگ یہ مقابلہ بیت بازی منعقد کرتے ہیں تاکہ ہمارے ان طلبہ کے اندورشوق پیداہو۔