کورونا سے اب تک اندور میں ہوئی 10 اموات ،بمبئی بازار کو پولیس نے کیا سیل


اندور06 اپریل(نیا نظریہ بیورو) شہر میں کورونا مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ اتوار کے روز ، 22 مزید نئے مریض پائے گئے ، جبکہ دو مریض فوت ہو چکے ہیں۔ اندور میں ، اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔ یہ ملک کے کل اموات 127 میں سے 8 فیصد ہے۔ رات گئے دو اور مشتبہ افراد کی ہلاکت کا پتہ چلا ، لیکن انتظامیہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ایم جی ایم میڈیکل کالج اور محکمہ صحت کے اعداد و شمار میں غفلت برتنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ہفتے کے روز محکمہ کی جانب سے دی گئی رپورٹ کے مطابق اتوار کے دن مریضوں کی تعداد 105ہونی تھی جبکہ میڈیکل کالج 135 کی اطلاع دے رہا تھا۔میڈیکل کالج کے مطابق ، اتوار کے روز ، سنیہ لتا گنج کی نسرین بی ،عمر 53سالہ اور ادا پورا کے محمد رفیق عمر 50سالہ نے دم توڑ ا۔ دونوں کی کوئی ٹریول ہسٹری سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں چل سکا ہے کہ وہ کسی انفکیشن والے مریض کے رابطہ میں آئے تھے کہ نہیں ۔ وہیں سب سے زیادہ ملے مریضوں کی تعداد 6 ہے جن کا تعلق ٹاٹ پٹی باکھل سے ہے ۔ ان میں سے 5 مریضوں کا تعلق اس مکان سے ہے جہاں ہفتے کے روز 7 مریض پائے گئے تھے۔ یعنی ، یہاں ایک ہی گھر میں 12 افراد متاثر ہو ئے ۔اتوار کو کورونا مثبت مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے درمیان خوشخبری کی خبر آئی ۔ پہلے مرحلے میں پائے جانے والے 30 مثبت مریضوں میں سے 20 صحت یاب ہوگئے ہیں۔ کلکٹر جناب منیش سنگھ کے مطابق ، ان کی پہلی ٹیسٹ رپورٹ منفی آئی ہے۔ جیسے ہی دوسری تفتیش ہوگی ہم ان کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیں گے۔ 24 مارچ کو شہر میں پہلا مریض ملنے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب مثبت مریضوں کو ڈسچارج کیا جا ئے گا ۔
ایک دن میں 40 ٹیسٹ ہوتے تھے ، اب ہوں گے 200 ٹیسٹ
کورونا انفیکشن کی جانچ پڑتال کے لئے ایم جی ایم میڈیکل کالج کی ویرولوجی لیب کی گنجائش پانچ گنا تک بڑھ گئی ہے۔ ڈویژنل کمشنر جناب آکاش ترپاٹھی نے کہا کہ پہلے جہاں ہم صرف 40 ٹیسٹ کراسکتے تھے ، اب ہم 200 ٹیسٹ ہوں گے ۔ اس سے شہر میں مزید نمونے لئے جا سکیں گے۔ اس کے علاوہ ، لیبز نے یونیورسٹی سمیت کچھ دیگر اداروں کے مائکرو بائیوولوجسٹ کی خدمات لی ہیں۔ اس لیب میں24 گھنٹے خدمات فراہم کی جائیں گی ۔