چینی حکام خواتین  کے استحصال  کے معاملوں کو چھپانے میں مصروف

بیجنگ ۔ یکم  مارچ۔  چین میں حکام حکومت کی اعلیٰ ترین سطح سے لے کر نچلی سطح تک خواتین کے استحصال کی خبروں اور اعداد و شمار کو چھپاتے ہیں۔ یہ  خلاصہ  کل ایک رپورٹ میں  سامنے آیا ہے۔ کینیڈا میں قائم تھنک ٹینک، بین الاقوامی فورم برائے حقوق نے کہا کہ دو حالیہ واقعات، جن میں ایک سابق ٹینس کھلاڑی پینگ شوائی اور دوسری ایک خاتون کی جو جیانگ سو صوبے میں ایک شیڈ کے اندر گلے میں زنجین  جکڑی ہوئی پائی گئی، نے چین میں خواتین کی حالت زار کی طرف دنیا بھر کی توجہ دلائی ہے۔نومبر 2021 میں، پینگ نے ویبو پر ایک پوسٹ میں چین کے ریٹائرڈ نائب وزیر اعظم ژانگ گاولی پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔  اس پوسٹ کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا اور پینگ ہفتوں تک غائب  رہی ۔ پینگ 2022 میں بیجنگ میں سرمائی اولمپکس کے دوران عوام کے سامنے دوبارہ نمودار ہوئیں، اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہ اس نے کبھی کوئی الزام نہیں لگایا تھا۔ ایک اور مثال میں، ایک عورت خوفناک حالت میں پائی گئی، جسے جیانگ سو صوبے میں ایک شیڈ کے اندر  زنجیر سے گردن سے جکڑا ہوا تھا۔ عورت کو سالہا سال کے استحصال کا نشانہ بنایا گیا، اسے اپنی آزمائش کے دوران آٹھ بچوں کو جنم دینے پر مجبور کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چین میں حکام نے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے بغیر دونوں واقعات کو چھپانے کی کوشش کی ہے ۔ چین دنیا میں انسانی سمگلنگ کے سب سے سنگین نیٹ ورکس میں سے ایک ہے، صرف 2020 میں چین میں “گمشدہ افراد” کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ گئی۔