چین کی  مالی اعانت میں تاخیر کے باعث پاکستان ریلوے منصوبہ بیچ میں لٹکا

اسلام آباد۔ 23 فروری۔  چین کے ایگزم بینک کی مالیاتی تاخیر کی وجہ سے پاکستان ریلوے لائن پروجیکٹ، مین لائن  بیچ منجدھار میں لٹکا ہوا ہے۔  غور طلب ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان قرضوں کی میچورٹی مدت کے حوالے سے تنازعہ جاری ہے۔ بیجنگ قرض کی مدت کو کم کرکے 15-20 سال کرنا چاہتا ہے اور اس منصوبے کے 85 فیصد حصے کی مالی اعانت چاہتا ہے جبکہ اسلام آباد نے 25 سال کی مدت کی تجویز پیش کی ہے۔ پاکستان کی راہ میں پڑنے والا ایک اور بڑا مسئلہ غیر ہنر مند افرادی قوت ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی جدید ریل نظام کو نہیں سنبھال سکتی۔ دریں اثنا، چین نے کرنسی کو بین الاقوامی بنانے کے لیےآر بی ایم( چینی کرنسی) کا استعمال کرتے ہوئے اس منصوبے کی مالی معاونت کے لیے تیاری ظاہر کی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے چیئرمین جنید اکبر نے بیجنگ پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر چین کے ساتھ مالیاتی مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اسلام آباد روس یا کسی دوسرے ملک کا رخ کرے گا۔ تاہم، کسی دوسرے ملک کی جانب سے بڑی رقم کی سرمایہ کاری کا امکان نہ ہونے کے برابر نظر آتا ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور اس منصوبے میں تاخیر 20,000 مقامی لوگوں کے لیے براہ راست روزگار کے اسلام آباد کے دعوے کو دھچکا ثابت ہونے والی ہے۔ اسلام آباد کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اس منصوبے کو تین سے پانچ سال تک چینی کمپنیوں کے حوالے کیا جائے۔ ایک اہلکار کے مطابق، “پالیسی سازوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ منصوبہ کی مین لائن  کی تکمیل کے بعد جدید ریلوے کو کون چلائے گا۔” پاکستان ریلوے پہلے ہی حکومتی سبسڈیز پر منحصر ہے اور ریلوے ناکافی ریونیو کے مسئلے سے دوچار ہے۔ موجودہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی( کی زیرقیادت حکومت کے دوران ریلوے کا محکمانہ خسارہ 2021 میں بڑھ کر 46 بلین روپے ہو گیا اور کل نقصان 1.19 ٹریلین پاکستانی روپیہ  ہو گیا، جس کی بنیادی وجہ مسافر اور سامان دونوں کی کم ٹریفک ہے۔ اسی طرح مال بردار گاڑیوں کی تعداد 16,159 سے کم کر کے 14,327 کر دی گئی۔ خبروں کے مطابق   پاکستان کو گذشتہ  50 سالوں کے دوران  1.2 ٹریلین پاکستانی روپیہ  کا تخمینہ نقصان ہوا ہے۔ مالی سال 2017 میں اس کے نقصانات تقریباً 40 ارب روپے تھے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ اب تک 57 مسافر ٹرینیں بند کی جا چکی ہیں اور اب ملک بھر میں مختلف روٹس کے لیے صرف 85 ٹرینیں دستیاب ہیں۔