مساجد میں نمازِ جمعہ سے قبل حجاب و پردے پر گفتگو کی جائےگی:قاضی سید مشتاق علی ندوی

بھوپال 10فروری(نیا نظریہ بیورو)اگرچہ حجاب کو لے کر ہنگامہ آرائی سے ایم پی کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن اس کو لے کر ہلچل نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ شہر قاضی نے دارالحکومت بھوپال کی تمام مساجد میں اس بارے میں بیان دینے کی ہدایت دی ہے۔ یہ بیانات جمعہ کی نماز سے پہلے کئے جائیں گے۔

شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے بتایا کہ حجاب کو لے کر جس طرح کی بحث اور ہنگامہ برپا ہے، ایسی صورتحال کی ضرورت نہیں۔ ہر مذہب کے ماننے والے کو اپنے مذہب کے عقیدے کے مطابق لباس پہننے کی آزادی ہے۔ ایسے میں حجاب یا برقعہ کے بارے میں الگ بحث کرنے یا قانون نافذ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ شہر قاضی نے دارالحکومت بھوپال کے لوگوں سے اس معاملے میں صبر اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ریاست میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے، حکومت بھی اقلیتوں کے جذبات کے مطابق فیصلے کررہی ہے۔ شہر قاضی نے بتایا کہ مسلم کمیونٹی کو حجاب کے حوالے سے اختیار کیے جانے والے طریقوں کی وضاحت کے لیے خصوصی بیان دینے کو کہا گیا ہے۔ یہ بیان شہر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد میں نماز جمعہ سے قبل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو اپنے مذہب، اس کے نظام اور عقائد کے بارے میں بہتر معلومات ہوتی ہیں لیکن اسے وقتاً فوقتاً یاد دلایا جانا اور دہرایا جانا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے اس ہفتے جمعہ کی نماز سے قبل مساجد میں حجاب کے بارے میں بیان دیا جا رہا ہے۔ تاکہ لوگ بھی اس کے بارے میں پھیلائی گئی کنفیوژن سے باہر نکل سکیں اور اس کے پہننے کا صحیح طریقہ بھی سمجھ سکیں۔