’عالمی فروغ اُردو اَدب ایوارڈ: دوحہ قطر میں دئےے جانے والے اعزاز کےلئے سیفی سرونجی ہوئے منتخب

بھوپال09فروری(پریس ریلیز) اِس سال ’چھبیسویں عالمی فروغِ اردو ادب ایوارڈ، دوحہ قطر 2022‘ جیوری کی میٹنگ کووِڈ کی وجہ سے آن لائن منعقد ہوئی جس میں اردو کے معروف نقاد، محقق، شاعر، ادیب و صحافی سیفی سرونجی کو ےہ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا جو ڈیڑھ لاکھ روپے نقد، ایوارڈ ٹرافی اور سپاس نامہ پر مشتمل ہے۔ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جیوری کے چیئرمین پدم بھوشن پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کی مجموعی خدمات کے اعتراف میں جیوری کی متفقہ رائے کی بنیاد پر اس سال کے ایوارڈ کے لےے سیفی سرونجی کے نام کا فیصلہ ہوا ہے۔ اس موقع پر پروفیسر نارنگ نے تفصیل میں مجلس عالمی فروغ اردو ادب کی اغراض و مقاصد اور خدمات پر روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر سےفی سرونجی سرونج کے اےک گاﺅں مہوا کھےڑا مےں 28 اپرےل 1952 مےں پےدا ہوئے۔ اُنھوںنے اپنے ادبی سفر کی شروعات اےک بےڑی مزدور کے طور پر کی۔ ان کی اب تک سینکڑوں غزلےں اور مضامےن، آٹھ شعری مجموعے، دےگر سوانح، سفرنامہ، افسانے، انشائےے، ناول، تحقےقی و تنقےدی مضامےن اور فن و شخصےت پر مشتمل 75 کتابےں منظرِعام پر آ چکی ہےں۔ ان کی اہم تصانےف میں ’ےہ تو سچا قصہ ہے‘ (سوانح)، ’سرونج سے لندن تک‘ (سفر نامہ)، ’اردو افسانہ ترقی پسند تحرےک کے بعد‘ (تحقےق و تنقےد)، ’نئی غزل نئے امکانات‘ (تنقےد)، ’اکےسوےں صدی اور اردو ناول‘ (تنقےدی مضامےن)، ’اردو نظم کا ارتقائی سفر‘ (تحقےق و تنقےد)، ’اےک بحر سو غزلےں‘ (شاعری) شامل ہیں۔ سیفی سرونجی پچھلے چالیس برسوں سے پابندی کے ساتھ مشہور اردو رسالہ سہ ماہی ’انتساب عالمی‘، شائع کر رہے ہےں جس کے دو درجن سے زےادہ ضخےم خصوصی نمبر شائع ہوکر ادبی دنےا مےں مقبولےت حاصل کرچکے ہےں۔ ساتھ ہی پچھلے چھ برسوں سے رسالہ ماہنامہ ’عالمی زبان‘ بھی شائع کر رہے ہےں۔ وہ متعدد انٹرنےشنل اور نےشنل سےمےناروں، کانفرنسوں اور مشاعروں مےں شرکت کرچکے ہےں۔ ہندو پاک کے نصاب مےں ان کے نثری مضامےن شامل ہےں جن مےں پشاور ےونےورسٹی اور اےم پی بورڈ سلےبس کے نام نماےاں ہےں۔ ڈاکٹر سےفی سرونجی کی ادبی خدمات پر دو اےم فل کے مقالے لکھے جا چکے ہےں اور سہ ماہی ’انتساب عالمی‘ پر پی اےچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوچکی ہے۔

مجلس فروغ اردو ادب، دوحہ قطر کا ےہ پروقار ادبی ایوارڈ ہر سال ایک ہندستانی اور ایک پاکستانی ادیب کو دیا جاتا ہے۔ ہندستانی ایوارڈ یافتگان میں آل احمد سرور، قرة العین حیدر، جیلانی بانو، کالی داس گپتا رضا، گوپی چند نارنگ، جوگیندر پال، سریندر پرکاش، نثار احمد فاروقی، سیدہ جعفر، جاوید اختر، عبدالصمد، گلزار، رتن سنگھ، شموئل احمد، مشرف عالم ذوقی، نندکشور وکرم، سیدمحمد اشرف، ف س اعجاز، نورالحسنین اور شمیم حنفی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

پینل آف ججز کا آن لائن اجلاس جیوری کے چیئرمین اور اردو کے ممتاز نقاد و دانشور پروفیسر گوپی چند نارنگ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اراکین جیوری میں پروفیسر شافع قدوائی، جناب شین کاف نظام، ڈاکٹر عبدالنصیب خاں اور جناب ماہر منصور شامل تھے جبکہ کوآرڈینیٹر کفایت دہلوی اور محمد موسیٰ رضا بھی موجود تھے۔ ایوارڈ کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا۔ مجلس فروغ اردو ادب، دوحہ قطر کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے پیٹرنس کے سرپرست اردو کے فعال خدمت گزار اعلیٰ جناب محمد عتیق صاحب ہیں۔ اب تک 25 ادیبوں کو اس ایوارڈ سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔ اگر حالات سازگار رہے تو ےہ ایوارڈ اکتوبر 2022 میں دوحہ قطر میں منعقدہ تقریب میں سفراءکرام، عمائدین شہر، شعرا و ادبا اور سینکڑوں عاشقانِ اردو کی موجودگی میں پیش کیا جائے گا۔