حیدر بیابانی یادیں اور باتیں: سیمینار میں بھوپال کے ادیبوںنے حیدر بیابانی کی تحریروں کو ادب اطفال کی روح سے کیا تعبیر

بھوپال05فروری(نیا نظریہ بیورو)حیدر بیابانی کا شمار اردو زبان میں ادب اطفال کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے۔ان کے سانحہ ارتحال پر جو خلا ہوا ہے وہ یقینا پُر نہیں کیا جا سکتا۔ان خیالات کا اظہار ممتاز ادیبوںنے اقبال لائبریری میں منعقدہ سمینار میں کیا۔ادیبوںنے حیدر بیابانی کی تحریروں کو ادب اطفال کی روح سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ حیدر بیابانی کی ولادت یکم جولائی 1948 میں ریاست مہاراشٹر کے تاریخی شہر اچلپور کے کرج گاو ¿ں میں ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات بھی اچلپور میں 19جنوری 2022کو گذارے۔ان کی تعلیم وتربیت اچلپور میں ہوئی۔اپنی عملی زندگی کے اوائل میں انہوںنے درس تدریس کیا۔اس کے بعد انہوںنے خود کو ادبِ اطفال سے وابسطہ کر لیا۔انہوںنے اپنی 74سالہ زندگی میں ادب اطفال کے مختلف موضوعات پر55 کتابیں لکھیں ۔ان کی تحریریںنہ صرف مہاراشٹر ،مدھیہ پردیش بلکہ ہندستان کے ساتھ پاکستان کے نصاب کا بھی حصہ ہیں۔

بھوپال اقبال لائبریری میں بینظیر انصار ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ سمینار میں دانشوروں نے حیدر بیابانی کی تحریروں کو ملک گیر سطح پر ادب اطفال کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

ممتاز ادیب خالد عابدی نے سمینار میں اپنے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حیدر بیابانی کی شاعری کی خوبی یہ ہے کہ اس میں تنوع ہے اور ان کی شاعری کو پرھنے سے ان کا قاری کبھی بوجھل نہیں ہوتا ہے ، بلکہ اس کی سرشاری اور معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کا مطالعہ گہرا تھا۔ جتنی گہری نظر ان کی اردو زبان و ادب پر تھی اتنی ہی وہ مراٹھی اور ہندی ادب پر بھی گہری دسترس رکھتے تھے۔ انہوں نے جس طرح سے اچلپور میں ذہن سازی کا فریضہ انجام دیا تھا ، اسی طرح سے انہوں نے بیتول مدھیہ پردیش میں ایک نسل کی تربیت کی تھی۔

ممتاز دیب اقبال مسعود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیدر بیابانی کا سارا ادبی سرمایہ بچوں کے ادب سے وابستہ ہے۔انہوں نے زندگی بھر جو کچھ بھی لکھا وہ بچوں کے ادب کے لئے لکھا۔بچوں کے بہتر کردار کے لئے ،بچوں کی دلچسپی کے لئے لکھا۔اور انہوں نے ایک ایسے عہد میں بچوں کے لئے ادب تخلیق کیا جب اردو میں ادب اطفال کا ذخیرہ روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے اور ایسے میں ان کی حیثیت اور بڑھ گئی تھی۔ہماری خوشی اس وقت ہوتی جب ساہتیہ اکادمی انہیں ایوراڈ سے سرفراز کرتی۔ان کے نام کی سفارش کئی بار کی گئی لیکن ساہتیہ اکادمی میں بیٹھے لوگوں نے انہیں نظرانداز کیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ خود ایسے باتوں سے خود کو بہت رکھتے تھے اور جو اردو کے لوگ ہیں انہوں نے گروہ بندی کے سبب ان کے نام کو نطر اندز کیا اور اس کے لئے ہم سب لوگ مجرم ہیں۔

بینظیر انصار ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر ایم ڈبلیو انصاری کہتے ہیں کہ سمینار کے انعقاد کا مقصد نئی نسل کو حیدر بیابانی کی تحریروں سے واقف کرانا ہے۔ ویسے بھی ہمارے اردو معاشرے میں ادب اطفال میں بہت کم کام کیا گیا ہے ، لیکن حیدر بیابانی اپنی تحریروں سے سماج کو بیدار کرنے جو کام کیا ہے وہ بے مثل ہے۔

ممتاز شاعر منظر بھوپالی نے حیدر بیابانی کے افکار پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیدر بیابانی کا جو وطن ہے وہی میرا بھی وطن ہے۔ اچلپور ایک تاریخی شہر ضرور ہے لیکن موجودہ وقت میں پسماندگی کا شکار ہے۔حیدر بیابانی نے ادب اطفال کے لئے اس چھوٹے سے شہر سے جو تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے وہ کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ادب اطفال پر لکھی گئیں ان کی نظمیں صرف یہیں پر بلکہ جہاں جہاں پر بھی عالمی سطح پر اردو لکھی اور پڑھی جاتی ہے کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔حیدر بیابانی ادب اطفال میں اپنی شاعری کے توسط سے جو شفاف لہجہ دیا ہے وہ ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

بینظیر انصار ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتما م منعقدہ سمینار میں حیدر بیابانی کے نام سے سالانہ قومی ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ ایوارڈ ہر سال یکم جولائی کو حیدر بیابانی کی یوم ولادت کے موقعہ پرادب اطفال میں نمایاں کام کرنے والی ممتاز شحصیت کو دیا جائے گا۔پروگرام کا آغاز حیدر بیابانی کے پوتے انتخاب حیدر نے حیدر بیابانی کی حمد اللہ بہت بڑا کو پیش کرکے کیا۔