بھوپال کے ہزاروں مزدور بھوک کاشکار ،سرکاری سہولیات بھی نہیں دستیاب


بھوپال:02اپریل(نیانظریہ بیورو) ریاست کی راجدھانی میں واقع گووند پورہ انڈسٹریل ایریا میں تقریبا 7 ہزار مزدور کام کرتے ہیں۔ اس کے کنبے کی روزی روٹی گووند پورہ انڈسٹریل ایریا سے منسلک ہے۔ کچھ فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور کچھ حمالی کے طور پر کام کرتے ہیں۔وہیں کچھ افراد بطور ڈرائیور اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ مزدور مختلف طریقوں سے اپنی روزی کما رہے ہیں۔لیکن جب میڈیااہلکار اس علاقے میں پہنچے تو ، ان بے یارومددگارمزدوروں نے اپنی تکلیف دہ کہانی سنائی اور میڈیا کے ذریعہ حکومت سے درخواست کی۔کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاو¿ن ہے ، لیکن اس کی وجہ سے سب کچھ ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ، جیسے ان لوگوں کے لئے کھانے کا کوئی بندوبست نہیں ، وہیں کام بند ہونے کی وجہ سے کمائی ختم ہوجاتی ہے۔ دوسرے شہروں میں جاکر کام کرنے والے افراد پھنس گئے ہیں۔اب وہ اپنے گھر جانا چاہتے ہیں۔ لیکن گاڑی بند ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہےں۔ عوامی نمائندوں میں سے کوئی بھی ریلیف دینے کے لئے نہیں پہنچ رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے راحت کی اطلاعات تو ہیں۔ لیکن ابھی تک امداد کے نام پر کچھ بھی انہیں حاصل نہیں ہوسکا۔ پولیس کی سختی سے پریشان حال مزدور اور ناقص طبقہ بے بسی کی زندگی گزار رہا ہے۔گووند پورہ انڈسٹریل ایریا میں رہنے والی سنگیتا پانڈے نے کہا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ، بچے بھی پریشان ہیں۔ پانی میسر نہیں ، راشن نہیں ہے۔ اگر دکانیں کھلی ہیں تو راشن خریدنے کے لئے بھی رقم ہونا چاہئے۔وہ تک ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔وہیں ایک مزدور کشواہا کا کہنا ہے کہ کاروبار رک گیا ہے ، ہمارے پاس گھر میں کھانا بھی نہیں ہے۔ ہم پریشان ہیں ، بچوں کے ساتھ پڑے ہیں ، نہ گھر جاسکتے ہیں اور نہ ہی کہیں باہر جا سکتے ہیں۔ تمام سہولیات بند ہیں ، اجرت کی بندش کی وجہ سے پیسہ نہیں مل رہا ، کبھی وہ کھا رہے ہیں اور کبھی وہ بھوکے سو رہے ہیں۔صنعتی علاقے میں ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرنے والے واسودیو پانڈے کا کہنا ہے کہ بہت پریشانی کاعالم ہے۔ نجی کاریں چلاتے ہیں۔ لیکن وہ کھڑی ہوگئی ہے۔ کوئی کمائی نہیں ہے۔ اس نے پیسہ نل کے کنکشن کے لئے جمع کرایا لیکن اسے خیال تک نہیں آیا۔ کوئی دیکھ بھال کرنے نہیں آرہا ہے۔غورطلب ہے کہ حکومت مزدوروں اور غریب طبقے کی مدد کے لئے مختلف اعلانات کر رہی ہے۔ ایسے میں انتظامیہ پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ سہولیات لوگوں تک کیوں نہیں پہنچ رہی ہیں۔ ٹیلی ویزن اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو حکومتی مدد کے اعلانات اور یقین دہانی مل رہی ہیں۔ لیکن 12 دن گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کوکچھ بھی راحت کاسامان نہیں پہنچایاگیا۔