رتلام شہرمیں سب انسپکٹرکی شکایت کرنے والے نوجوانوں پرہی ہوا معاملہ درج

لاک ڈاو ن میں پولس اہلکارنشے کی حالت میں :

بھوپال:8مئی(نیانظریہ بیورو)
مدھیہ پردیش جمعیة علماءکے صدر حاجی محمدہارون نے رتلام واقعے پرشدیدبرہمی کااظہارکیاہے۔واضح رہے کہ واقعہ مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع کے اسٹیشن روڈ کاہے۔جہاں گزشتہ دنوں سب انسپکٹرجے آر جمود ہاتھیانہ روڈ چنگی پورہ مسجد کے سامنے مسلم طبقے کے لوگوں کونشے کی حالت میں گالی گلوچ کررہاتھا۔جس پرمقامی نوجوانوں نے ایساکرنے سے منع کیا توپولس افسراپنی وردی کارعب دکھاتے ہوئے اورزیادہ بدتمیزی پراترآیا،ساتھ ہی نوجوانوں سے بدسلوکی شروع کردی۔جس کے بعد پولس اورنوجوانوں میں جھوما جھٹکی ہوگئی۔اس معاملے کی خبرجب اعلی افسران کوملی توانہوں نے سب انسپکٹرکومعطل کردیا۔ لیکن دوسری طرف مسلم نوجوانوں کے خلاف بھی معاملہ درج کرلیاگیا۔ان نوجوانوں کوگرفتارکرنے کے لئے پولس نے رات میں گھروں میں گھس کربدسلوکی کی اورتوڑپھوڑبھی کی۔ساتھ ہی گھرمیں موجود خواتین سے بھی نہایت بدتمیزی کی اورتمام نوجوانوں کوگرفتارکرلے گئی۔ اس معاملے میں جمعیة علماءکے ریاستی صدرحاجی محمدہارون کاکہنا ہے کہ جب اس بات کے ثبوت مل گئے ہیں کہ سب انسپکٹرنشے میں تھے تو معطل کرنے کے بجائے ان پرفوجداری کامقدمہ درج کیاجاناچاہئے تھا۔وہاں موقع پرموجود لوگوں نے فون اطلاع دیتے ہوئے جمعیة کوسارا معاملہ بتایا۔ساتھ ہی معاملے کی ویڈیوگرافی بھی بھیجی۔ حاجی ہارون نے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی جانچ کی جائے اوربے قصورنوجوانوں کوفوری طورپررہاکیاجائے۔اس کے علاوہ پولس کے ذریعہ گھروں میں گھس کربدتمیزی اوربدسلوکی وتوڑپھوڑکئے جانے کے خلاف متعلقہ پولس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔حاجی ہارون نے اس معاملے میں بی جے پی کے اعلی عہدیداروں اوررتلام ضلع کے ایس پی گوروتیواری سے بات کی ہے اوربے قصور نوجوانوں کے فوراً چھوڑنے کامطالبہ کیاہے۔