لاک ڈاون کاظلم: ضروری اشیاءلینے جانے پربھی پولس برت رہی ہے سختی


بھوپال:8مئی(نیانظریہ بیورو)
لاک ڈاو¿ن کی مدت کوڈیڑھ ماہ سے زیادہ کاعرصہ گزرچکاہے،اس دوران لوگوں کی حفاظت میں لگے پولس اہلکاروں کوبے شک مسلسل ڈیوٹی نے انہیں تھکادیا ہے، دن ورات کی تھکان نے انہیں غم و غصے سے بھر دیا ، وہ کنبے سے بھی پریشان ہوگئے ہیں ، لیکن اس کے جواب میں راجدھانی پولیس نے جو عوام کی حفاظت کی شکل اختیار کی ہے وہ حفاظتی شکل تونہیں کہا جاسکتا۔ لاک ڈاو¿ن توڑنے والے افراد کاپولس جس بے رحمی ودردی سے پٹائی کررہی وہ شاید چوربدمعاشوں کوراہ راست پرلانے کے لئے بھی شایدہی کبھی استعمال کیاجاتاہو۔ لیکن اس وقت پولس جس بے رحمی کامظاہرہ کررہی ہے وہ تھرڈ ڈگری کوبھی پیچھے چھوڑرہی ہے۔اس وقت عالم یہ ہے کہ لاک ڈاو¿ن کی خلاف ورزی کرنے پرپولس ہی گوہ،وکیل، جج کے طورپرخودہی فیصلہ کرلیتی ہے اورگھرسے نکلے نوجوان کی اس بے دردی سے پٹائی کردیتی ہے کہ اگراندوری چوٹ لگ جائے توشاید معاملہ سنگین ہوجائے۔موجودہ وقت میں پولس سارافیصلہ خود لیتے ہوئے چٹ غلطی پٹ سزاکے فارمولے کو اپناتی ہوئی صاف نظرآرہی ہے۔لاک ڈاو¿ن یاسوشل ڈسٹینس پرعمل نہ کرنے پرطے بطورسزا طے کی گئی گائڈ لائن کوپولس اہلکاروں نے طاق پررکھ کر انسانیت کوجھنجھوڑکررکھ دیاہے۔اس وقت پولس زیادتی انسانی حقوق کو بھی ختم کرنے کا سبب بن گئی ہے۔
بروز جمعرات راجدھانی کے متعدد چوک چوراہے شہر کے لوگوں پر پولیس کی بربریت کے گواہ بن گئے ، جو اپنی ضروریات کے لئے گھر سے نکلنے کا بڑا جرم کررہے تھے۔ پولیس اہلکاروں نے انسانیت کوپیچھے چھوڑتے ہوئے کسی بڑے جرم کا ارتکاب کیاہے۔ شہر کے متعدد علاقوں بشمول اقبال میدان ، بدھوارہ ، چوکی امامباڑہ ، پیر گیٹ میں ، پولیس کی اس کارروائی کو غیر اعلانیہ ظلم وبربریت کی علامت سمجھا جاسکتا ہے۔
مشورہ نہ ماننے پر سزا کی تجویز:
جو بھی لاک ڈاو¿ن کو توڑتا ہے اس کے لئے سزا کی فراہمی قانون کے نقطہ نظر سے طے ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے دفعہ 14 کے تحت یا دونوں کو ملا کر سزا یا جرمانہ دیا جاسکتا ہے۔ اس غلطی کے علاوہ ، یہاں تک کہ کسی بڑے جرم کے لئے بھی ، پولیس کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ خود ہی قصورواروں کے لئے سزا کا فیصلہ کریں اور اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرے۔
باکس
جب بازار کھلے ہیں توروک کیسی:
لاک ڈاو¿ن کے ایک طویل عرصے کے بعد ، شہر میں اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلنا شروع ہوگئیں ہیں۔ ان کے لئے ایک مقررہ وقت بھی طے ہے۔ دکانوں کو کھولنے کے لئے براہ راست نرمی کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ لوگ اپنی ضرورت کا سامان حاصل کرنے کے لئے باہر آسکتے ہیں لیکن دکان کھولنا اور خریدار کو آنے سے روکنا یہ کس طرح ٹھیک ہے۔ ایک نئی صورتحال کا باعث بن سکتا ہے۔
شرابی ڈسٹینس پر سوال:
ریاست میں شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت کے بعد ، اس بارے میں کوئی یقینی ہدایت نامہ موجود نہیں ہے کہ پولیس کے ذریعہ اس سرگرمی اور پابندی کو کس طرح برقرار رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کی حمایت کرنے کے لئے جو ریاست کے معاشی نظام کی حمایت میں ہے ، یہ دیکھنا اہم ہوگاکہ پولس کی جانب سے لاٹھیاں اسی طرح لوگوں پربرستی رہے گی یاپولس کے ذریعہ کئے جارہے ظلم پرروک بھی لگے گا۔
معاملہ جائے گاانسانی حقوق کمیشن :
راجدھانی بھوپال کے علاوہ ریاست کے دوسرے بہت سے شہروں سے بھی پولیس کی بربریت کی ایسی خبریں منظرعام پر آئی ہیں۔ اندور میں ، پولیس نے چندن نگر ، گلزار کالونی ، گیتا نگر وغیرہ جیسے مقامات پر عالم لوگوں کے جسم پرپولس نے لاٹھیاں برساکر اپنی تھکاوٹ کودورکیاہے ۔ اب کچھ سماجی کارکن ایسے تمام معاملات کے خلاف انسانی حقوق کمیشن کو شکایت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ ایسے متاثرین کوانصاف دلانے اورظالم پولس اہلکاروں کوسزادلوانے کےلئے عدالت کے دروازے بھی کھٹکھٹائیں گے۔