جن جماعتیوں پر لگایا گیا کورونا پھیلانے کا الزام، وہ روزہ قربان کر دے رہے پلازمہ

ایک طرف جہاں کورونا وائرس کے بڑھتے اثرات کا ذمہ دار تبلیغی جماعت کو بتایا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس تبلیغی جماعت کے سینکڑوں لوگ ایسے ہیں جو کورونا کی لڑائی میں تعاون دینے کے لیے الگ الگ طرح سے آگے آ رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 150 لوگوں نے مارہ مبارک رمضان کا روزہ قربان کر کے پلازمہ عطیہ کرنے اور کورونا متاثرین کی مدد کرنے کی سمت میں قدم بڑھایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کورونا مرض سے ٹھیک ہوئے تقریباً 150 تبلیغی جماعت کے ارکان نے دہلی کے تین سنٹرس پر پلازمہ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی وزارت صحت کی جانب سے پلازمہ کلیکشن ڈرائیو کی ذمہ داری سنبھال رہے ڈاکٹر محمد شعیب علی نے بتایا کہ تین کوارنٹائن سنٹرس پر پلازمہ سیمپل وصول کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 150 تبلیغی جماعت کے لوگوں نے پلازمہ عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انھیں بتایا گیا کہ پلازمہ عطیہ کرنے سے پہلے عطیہ کنندہ کو کچھ کھانا ہوتا ہے، ایسے میں انھوں نے روزہ توڑ کر پلازمہ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پلازمہ عطیہ کرنے والے تبلیغی جماعت کے اراکین میں شامل پاشا کہتے ہیں کہ انھیں مسلم سماج کے بڑے لوگوں نے اس کام کے لیے ترغیب دلائی۔ روزہ توڑنے کے تعلق سے انھیں کہا گیا کہ وہ اس کے بدلے ایک دن کا روزہ بعد میں رکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح بجنور کے رہنے والے محمد عثمان کا کہنا ہے کہ نریلا کوارنٹائن سنٹر میں تقریباً 950 کورونا متاثرین ہیں۔ سنٹر کے اے ڈی ایم نے ان سے پلازمہ عطیہ کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ انھوں نے مجھے پلازمہ عطیہ کرنے کا مشورہ دیا جس کے لیے میں تیار ہو گیا۔ عثمان کا کہنا ہے کہ 3 دنوں میں تقریباً 120 جماعتیوں نے اپنا پلازمہ کورونا متاثرین کے لیے عطیہ کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ نظام الدین مرکز کے سربراہ مولانا سعد کاندھلوی نے ملک بھر میں مقیم ایسے تبلیغی جماعت کے اراکین جو کورونا انفیکشن سے ٹھیک ہو چکے ہیں، ان سے اپنا پلازمہ عطیہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ ایک کھلے خط کے ذریعہ مولانا سعد نے لوگوں سے کورونا کے علاج میں مدد کرنے کے لیے آگے آنے کی اپیل کی تھی جس کا اثر اب لوگوں پر صاف دیکھنے کو مل رہا ہے۔