آرڈی گارڈی میڈیکل کالج کی بدانتظامی آئی منظر عام پر


آکسیجن سلنڈر بھی نہیں ہے دستیاب
بی جے پی کونسلر مظفر حسین کی موت کے بعد عوام میںزبردست غصہ
اُجین04 مئی)نیا نظریہ بیورو) اگر بھوپال میں بیٹھے عہدیداروں نے اس کی منظوری دی تو پی ٹی ایس (پولیس ٹریننگ اسکول ، مکسی روڈ) میں رکھے ہوئے کورونا مثبت مریضوں کو ایک بار پھر آر ڈی گارڈی میڈیکل کالج منتقل کیا جائے گا۔ بی جے پی کونسلر وسماجی کارکن مظفر حسین کی موت کے بعد بی جے پی میں سوگ کی لہر ہے۔اس کے علاوہ عام و خاص ان کی موت پر غمزدہ ہیں ۔ اسی کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کے کام کے بارے میں بھی سوا ل اٹھ رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ انیل فیروزیہ نے وزیر اعلیٰ سے فون پر گفتگو کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ سرکاری مشینری مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ تبدیلی کے بعد ہی اُ جین میں بہتری ممکن ہے۔
بی جے پی کونسلر مظفر حسین نے ہفتے کے روز میئر محترمہ مینا وجئے جونوال کو فون کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے آپ جلد سے جلد ایمبولینس اور آکسیجن سلنڈر پہنچائیں ۔ یہاں ایک سلنڈر تک نہیں ہے۔ میئر کے مطابق انہوں نے فوری طور پر اے ڈی ایم آر پی تیواری سے ٹیلیفون پر بات کی تھی ۔ وہ ایک گھنٹہ تک آکسیجن سلنڈر تک نہیں پہنچا سکے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر سریش گری اور یہاں شہر صدر جناب وویک جوشی بھی پاس بیٹھے تھے ۔ جب معاملہ ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے فوری طور پر سلنڈرکے ساتھ ایمبولینس بھیجی۔ اس وقت تک ایک گھنٹہ گزر چکا تھا۔جناب گری کے مطابق اگر وہاں آکسیجن سلنڈر ہوتا تو مظفر حسین کی جان بچ سکتی تھی۔ انھیں پی ٹی ایس سے آرڈی گارڈی میڈیکل کالج منتقل کردیا گیا۔ وہاں پہنچنے کے بعد ، مزید علاج شروع کیا گیا۔
آخر کیسے بیمار ہوئے مظفر حسین ، انتظامیہ نے کہاتھا سبھی لو گ صحتمند ہیں: پارس جین
ایم ایل اے جناب پارس جین نے کہا کہ جب پی ٹی ایس میں صحت کی دیکھ بھال نہیں تھی تب کورونا مریضوں کو وہاں کیوں رکھا گیا تھا؟ اگر رکھے جانے تھے تو مریض آر ڈی گارڈی سے اپنا اعتماد کھو رہے تھے تو پھر صحت کی دیکھ بھال کے تحت پی ٹی ایس میں ایمبولینس ، آکسیجن سلنڈر کیوں نہیں رکھا گیا تھا؟ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صحت یاب ہونے والوں کو بھیج دیا گیا تھا۔ پھر مظفر حسین بیمار کیسے ہوگئے؟ ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد ، ان کی رائے ہے کہ کلکٹر دوبارہ پی ٹی ایس سے مریضوں کو آر ڈی گارڈی میڈیکل کالج بھیجیں، تاکہ حادثاتی صورتحال میں علاج ہوسکے۔
افسران کی لا پرواہی کی وجہ سے کونسلر کی ہوئی موت : بی جے پی شہر صدر
بی جے پی کے شہر صدرجناب وویک جوشی نے کہا کہ پارٹی کی حکومت ریاست میں ہے اور عہدیداروں نے معاملہ کو اپنے نقطہ نظر سے سنبھالنے کی وجہ سے حکومت کی شبیہ خراب ہورہی ہے۔ مظفر حسین جیسے کارکن کے چلے جانے سے پارٹی کے لئے بڑا نقصان ہے۔ یہ بھی تب ہے جب حکومت ہماری ہے اور ہم ان کے لئے کچھ نہیں کرسکے۔ یہ عہدیداروں کی لاپرواہی ہے کہ کورونا کے اتنے مریضوں کو وہیں رکھا گیا تھا اور وہاں ایمبولینس اور آکسیجن سلنڈر تک نہیں تھا۔
انتظامیہ طے کرے کہ کہاں ہو ئی چوک
پورے معاملہ میں رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر انیل فیروز یہ نے کہا کہ ہم اپنے ایک وفادار اور خدمتگار کونسلر سے محروم ہوگئے ہیں۔ انتظامیہ کو سوچنا چاہئے اور فیصلہ کرنا چاہئے کہ غلطی کہاں ہوئی۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ایم آئی سی بی جے پی کے سابق ممبر پرکاش شرما کا کہنا ہے کہ
آر ڈی گارڈی کے صحت کا نظام بہت خراب ہے۔ انتظامیہ کو بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ سے گزارش ہے کہ وہ اس طرف زیادہ توجہ دیں۔ بی جے پی کی میونسپل کارپوریشن نائب صدرریکھا ا رورا نے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ آرڈی گارڈی کو فوراً بند کر دینا چائیے اور وہاں بنا ئے گئے کورونا سنٹر کو کسی اور اسپتال میں منتقل کر دینا چائیے۔ وزیر اعلیٰ سے درخواست ہے کہ وہ کالج ڈائیریکٹر کے خلاف کارروائی کریں۔ ڈاکٹر ایچ پی سونانیا کے مطابق ، کورونا مریضوں کے جسم کے اندر کب کیا رد عمل آجائے گا اس بابت کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ملک اور بیرون ملک سے کورونا متاثرین کی بہت سی علامات معلوم ہوئی ہیں جو حیران کن ہیں۔ یہ اچانک جسم کے اندر گردوں کو متاثر کرتا ہے ، فالج ، دل کے دورے ، برین ہیمرج وغیرہ کا سبب بنتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ، اگر مریض اچھا لگتا ہے تو پھر دوسرے ٹیسٹ کی اطلاع آنے تک اسے آنکھوں کے سامنے رکھنا ٹھیک ہے۔ مریضوں کو پی ٹی ایس بھیجنے کا فیصلہ اعلی عہدیداروں نے لیاتھا ، لہٰذا میں اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا۔ یہ بات تو صاف ہے کہ جب ریاست میں بی جے پی حکومت میں بی جے پی کارکن کی بات نہیں سنی جا رہی ہے تو عام لوگوں کی بات اسپتال میں کون سنے گا ۔ انتظامیہ کو کوئی ٹھوس قدم اٹھانے پڑیں گے تبھی ہم کو رونا سے جنگ لڑ پائیں گے ۔