بربریت کی انتہا: بدلتے ماحول میں محافظوں نے خود کا کردارہی بدل لیا ہے

بھوپال:3مئی(نیانظریہ بیورو)
ڈیڑھ مہینے سے چل رہی لمبی مشقت بھری ڈیوٹی سے پریشان پولس جوان،نہ فیملی سے ملنے کی راحت اور نہ دو پل سکون اور آرام۔ چوک،چوراہے،گلیوں سے لے کر بازاروں تک۔ کبھی انفیکٹیڈ علاقوں کی خاک چھاننے اور کبھی انفیکٹیڈ مریضوں کو انسانیت سے،پیار ومحبت سے ، اسپتال تک پہنچانے کی نئی طرح کے فرض ادا کرتے پولس اہلکار۔ تھکان بھی ہے، متحرک بھی ہیں ، اہل خانہ سے ملنے کی چاہت اور ضرورت بھی۔ سب سے زیادہ یہاں وہاں بھٹکتی کورونا وباء کا خوف،قانون کی حفاظت کرنے والوں کے حصے میں آیا۔ یہ ایک نئی طرح کا ٹاسک ہے۔ چور،بدمعاشوں اور لٹیروں سے گھرے رہنے والی پولس کو اکثر ان لوگوں سے جیب بھر اوپری کمائی کی امیدیں بھی بنی رہتی ہےں۔تنخواہ با لکل محفوظ،اس طرح کی اوپری کمائی سے ہی ان کے سارے کام سکون سے حل ہوتے رہتے ہیں۔چور ،بدمعاشوں کے آگے ڈنڈے ہلانا بھی انکے لئے آسان ہوتاہے، جس سے ان کی کالر اونچی کھڑی رہتی ہے۔ اب بدلے ماحول میں نہ کمائی اور نہ ڈنڈے تھپکائی،نہ چور بدمعاشوں سے ملنے والی رقم اور اوپر سے مریضوں کی عیادت کا ذمہ ۔ خدمت کے دوران ایک مہلک وائرس کے گلے پڑجانے کا خطرہ الگ۔بدلتے ماحول نے محافظ سے ان کا کردار بدل دیا ہے۔ جن سے حفاظت اور انصاف کی امیدیں لگی رہتی تھیں، ان سے مسلسل زخم مل رہے ہیں ۔ اندور کے کئی بستیوں سے آئی تصاویر سے لے کر راجدھانی میں پیش آئے کئی واقعات میں پولس کی بربریت والا چہرہ دکھائی دے رہا ہے۔ اپنی تھکان اوراضافی ڈیوٹی کے غصے کو بے قصور ، بے رسوخ،غریب اور ضرورتمند لوگوں پر نکالتی دکھائی دے رہی ہے۔ قصور اور گناہ کرنے والوں سے بھی زیادہ بے رحمی سے پٹائی کرتے دکھائی دے رہی پولس خود ہی گواہ، خود ہی دلیل،خود ہی ثبوت اور خود ہی وکیل،جج،جلاد سب کچھ بنتے اورخود فیصلے کرتے نظر آرہے ہیں۔
پورے ملک میںلاک ڈاﺅن کے حالات ہیں، سب کو معلوم ہے۔ اس کو توڑنے پر سزا کی تجویز ہے، یہ بھی سب کو معلوم ہے۔ لیکن باوجود اس کے اگر کوئی حدکو پارکرنے کی جرا¿ت کررہا ہے تو اس کے پیچھے کوئی تو مجبوری ہوگی۔20فیصد لوگ شوقیہ طور پرفضول گھومنے کے لئے نکلتے ہوئے پولس کے ہاتھ لگے ہونگے۔ایساشمار کیا جاسکتا ہے، لیکن باقی لوگ اس بات کے لئے بے گناہ شمار کیا جانا چاہئے کہ کوئی نہ کوئی مجبوری یا ضرورت انہیں گھر سے نکال لائی ہوگی۔ اس کے بعد بھی انہیں قانون کا مجرم مان کر گناہ کا حقدار مان بھی لیا جائے تو اس سزا کے لئے عدالت ، وکیل،جج بھی مقرر ہےں۔ پولس کو اس طرح کی بربریت پر اترآنے کا لائسنس کس نے دے دیا ہے۔