کورونا بحران کے دوران گورنر سرکاری مواصلات کا غلط استعمال کر رہے ہیں: ممتا بنرجی

کولکاتا: ایک ایسے وقت میں پورا ملک کورونا وائرس کی وجہ سے بحران میں مبتلا ہے تو بنگال میں سیاست عروج پر ہے۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہوڑ لگی ہے۔ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے گورنر کے 14 صفحاتی خط کا جواب 13 صفحات میں دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کے لئے اس طرح کے جملے اور الفاظ کی امید نہیں کی جاسکتی ہے جو گورنر جگدیپ دھنکر اپنے خطوط اور مسیج میں کر رہے ہیں۔

ممتا بنرجی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پورا ملک کورونا وائرس کے بحران کا شکا رہے تو گورنر اختیارات کے اصول کے لئے تگ ودو کر رہے ہیں اور سرکاری مواصلات او ر سوشل میڈیا کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

گورنر کے 23 اور 24 اپریل کو لکھے خط کا حوالہ دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ آپ نے اپنے خط میں جس طریقے کی زبان، الفاط اور لہجے کا استعمال کیا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ آپ کے الفاظ کو گھٹیا، الزام تراشی، توہین آمیز اور گالی گلوج پر مبنی ہی کہا جاسکتا ہے۔ میں نے آپ کے دونوں خط اور اس سے پہلے کے پیغام کو پڑا تھا تومجھ دکھ اور غصہ آیا مگر میرا دوسرا ردعمل یہ تھا کہ مجھے یہ خطوط پڑھ کر ہنسی آئی۔ آپ نے میرے لوگوں کے خلاف جس طریقے سے الفاظ کا استعمال کیا ہے اسے پبلک ڈومین میں نہیں لایا جاسکتا ہے۔ مگر گورنر کے عہدہ کا احترام کے ساتھ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس عہدے کے وقار کے منافی ہے۔

گورنر نے ممتا بنرجی کا خط ملنے کے بعد فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس خط کا تحریری جواب بعد میں دیں گے، مگریہ وقت ناراضگی کا نہیں بلکہ مل کر کام کرنے کا ہے۔ ممتا بنرجی کو بھی اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے۔ گورنر نے اپنے پہلے دو خطو ط میں ممتا بنرجی پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ممتا بنرجی اقلیتوں کو خوش کرنے کے لئے لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہیں۔ ممتا بنرجی نے گورنر کے خطوط کا جواب گزشتہ مہینے دیتے ہوئے کہا تھا کہ گورنر اپنے خطوط اور میسج میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں۔

ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ نے 2016 میں کہا تھا کہ گورنر کے عہد ہ پر فائزشخص کو سیاسی سرگرمیوں، بیانات اور سیاسی جماعتوں سے دور رہنا چاہیے اور گورنر کو ہارس ٹریڈنگ سے بھی باز رہنا چاہیے۔ ممتا بنرجی نے اپنے پہلے خط میں گورنر سے کہا تھا کہ ان کے پاس محدود اختیارات ہیں اس لئے ہر ایک کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ اگر آپ کو میری حکومت کے کام کاج سے اتفاق نہیں ہے تو آپ ہماری کمیوں کو ادب کے دائرے میں رہ کر ہماری کمیوں کو توجہ دلا سکتے ہیں۔ اگر ہمارے جواب سے آپ ممطئن نہیں ہوئے تو بھی اب آپ کے پاس آگے کی کارروائی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیوں کہ حکومت کو مقننہ کی حمایت حاصل ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ سچ ہمیشہ سے سچ ہی رہتا ہے۔ ممتا بنرجی نے خط میں لکھا ہے کہ بحران کے اس دورمیں جب بنگال اور ملک بحران سے دوچار ہے تو آپ طاقت اور اختیارات حاصل کرنے کی کوششوں سے باز آجائیں۔

خیال رہے کہ مغربی بنگال حکومت کے مطابق ریاست میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 800 ہوگئی ہے جب کہ 33 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ گورنر نے ریاستی حکومت کے اعدادو شمار پرشک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کے درمیان فرق ہے۔