دہلی پولس نے جن مسلمَانوں کو پکڑ کر کوارنٹائن کیا، ان کا تبلیغی جماعت سے کوئی تعلق نہیں

کورونا وائرس انفیکشن سے ہندوستان میں سبھی پریشان ہو چکے ہیں۔ اس درمیان تبلیغی جماعت کا ایشو خوب چھایا رہا۔ جگہ جگہ سے ان مسلمانوں کو پکڑ کر کوارنٹائن سنٹر میں ڈالا گیا جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ تبلیغی جماعت کے جلسہ میں شامل ہوئے یا پھر جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ دہلی پولس نے بھی یکم اپریل کو شمال مشرقی علاقہ سے زائد از 20 مسلمانوں کو تبلیغی جماعت جلسہ میں شامل ہونے کے اندیشہ میں اٹھا کر کوارنٹائن سنٹر بھیج دیا۔ ان سبھی کا کورونا ٹیسٹ کرایا گیا اور ریزلٹ سبھی کا نگیٹو برآمد ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی تبلیغی جماعت کے جلسہ میں شامل نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کوارنٹائن میں بھیجے گئے یہ لوگ جلسہ میں شامل کسی دیگر شخص کے بارے میں جانکاری رکھتے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ جن مسلم نوجوانوں کو وزیر آباد دہلی پولس ٹریننگ اکیڈمی واقع کووڈ-19 کوارنٹائن سنٹر میں رکھا گیا ہے، ان میں سے کم از کم 20 لوگوں کا دو بار کورونا ٹیسٹ ہوا اور وہ دونوں ہی بار نگیٹو پائے گئے۔ ان میں سے تقریباً 8 افراد شاستری پارک میں رہتے ہیں جب کہ بقیہ کا تعلق کھجوری خاص سے ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جس نے مارچ 2020 میں قومی راجدھانی دہلی کے سب سے بھیانک قتل عام کا مشاہدہ کیا۔ بہر حال، جن مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا ان کی عمر تقریباً 19 سال تھی اور ایک نوجوان تو کچھ دن پہلے ہی بلند شہر سے لوٹا تھا۔ جب ان بچوں کو گرفتار کیا گیا تو کسی کا رابطہ ان کے گھر والوں سے نہیں رہا کیونکہ پولس نے ان کے موبائل فون ضبط کر لیے تھے۔ موبائل انھیں جمعہ کے روز اس وقت دیئے گئے جب کوارنٹائن سنٹر سے ان کی آزادی کا پروانہ ملا۔
شاستری نگر سے اٹھائے گئے ایک مسلم نوجوان کا کہنا ہے کہ “یکم اپریل کو جب پولس مجھ کو پکڑ کر کوارنٹائن سنٹر لے گئی، اس وقت میں پھل خرید رہا تھا۔ میں نے بار بار پولس والوں سے کہا کہ میں نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے جلسہ میں شریک نہیں ہوا تھا، لیکن وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کچھ ٹیسٹ کرنے کے بعد دو گھنٹے میں واپس گھر بھیج دیں گے۔ پہلے مجھے رام منوہر لوہیا اسپتال کورونا وائرس ٹیسٹ کے لیے لے گئے۔ جب ڈاکٹر کو پتہ چلا کہ میں مرکز میں نہیں تھا، تو اس نے کہا کہ ہمارے ٹیسٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”
ایک دیگر مسلم نوجوان اپنے ٹیکسٹائل شاپ کی طرف جا رہا تھا جب پولس نے اسے روکا۔ مقامی پولس نے اس سے کہا کہ ایک ڈاکومنٹ کی فوٹو کاپی لے آؤ۔ جب وہ فوٹو کاپی لے کر آیا تو اسے بھی ایمبولنس میں بٹھا دیا گیا۔ ایک شخص کو اس کے پڑوسی نے پولس اسٹیشن پہنچنے کے لیے کہا تھا جب وہ ناشتہ کر رہا تھا۔ پھر ان سبھی کو آر ایم ایل اسپتال بھیجا گیا جہاں انھوں نے چار گھنٹے تک کورونا ٹیسٹ کے لیے انتظار کیا۔ پولس نے وعدہ کیا تھا کہ ٹیسٹ کے بعد انھیں گھر چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن گھر پہنچانے کی جگہ سبھی کو وزیر آباد کوارنٹائن سنٹر لے جایا گیا۔
ایک ایسے شخص کو بھی پولس نے کوارنٹائن سنٹر بھیجا جس کا گھر میں ایک چھوٹا بچہ تھا۔ وزیر آباد کوارنٹائن سنٹر میں رہنے کے لیے مجبور کیے گئے اس شخص نے بتایا کہ ” یکم اپریل کو مجھے کوارنٹائن سنٹر لایا گیا، لیکن پہلا ٹیسٹ 4 اپریل کو ہوا اور پھر گلے و ناک سے لعاب 13 اپریل کو لیا گیا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کی رپورٹ نگیٹو ہے، لیکن انھوں نے سرٹیفکیٹ نہیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ جب گھر جانے کی اجازت مل جائے گی تبھی سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔” گویا کہ نگیٹیو رپورٹ آنے کے بعد بھی لوگ جلد گھر نہیں جا سکے۔
شاستری پارک سے جن آٹھ لوگوں کو پولس نے اٹھا کر وزیر آباد کوارنٹائن سنٹر میں ڈالا تھا، ان میں ایک مسجد کے امام بھی شامل تھے۔ مسجد کی تیسری منزل پر ان غیر ملکی افراد کو رہنے کی اجازت دی گئی تھی جو تبلیغی جماعت جلسہ میں شامل ہوئے تھے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے واپس نہیں جا سکے۔ وزیر آباد کوارنٹائن میں شامل ایک شخص کا کہنا ہے کہ “ہم میں سے کسی نے ان غیر ملکیوں سے ملاقات نہیں کی، نہ ہی امام صاحب کی ان سے ملاقات ہوئی۔ کچھ مذہبی گروپ نے انھیں کمرے میں رہنے کی اجازت دی اور امام صاحب سے غیر ملکیوں کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک مقامی حاجی نے انتظامیہ سے بات چیت کر کے ان کے رہنے کا انتظام کیا۔ غیر ملکی افراد کمرے میں ہی رہتے تھے اور کبھی کبھی ہی کمرے سے نیچے آئے۔ پولس ان غیر ملکیوں کو ایمبولنس میں بٹھا کر لے گئی۔ شاید امام کا ان غیر ملکیوں سے کوئی رابطہ ہوا ہو، یہ سوچ کر پولس نے انھیں بھی ساتھ چلنے کو کہا۔” بتایا جاتا ہے کہ امام صاحب نے دہلی پولس کے ساتھ پورا تعاون کیا اور ان کے کہنے کے مطابق ایمبولنس میں ساتھ چلے گئے۔ آر ایم ایل اسپتال میں جب ڈاکٹروں کو پتہ چلا کہ امام مرکز جلسہ میں شریک نہیں ہوئے تھے، تو کورونا ٹیسٹ نہیں کیا۔ وزیر آباد کوارنٹائن میں ان کا دو مرتبہ ٹیسٹ کیا گیا اور دونوں ہی بار ریزلٹ نگیٹو برآمد ہوا۔
شاستری پارک کے 8 مسلمانوں میں سے 3 کی رپورٹ پازیٹو آئی تھی جن میں سے ایک کو سلطان پوری کوارنٹائن سنٹر بھیجا گیا اور دیگر دو کو سونیا وِہار کے قریب واقع کوارنٹائن سنٹر میں ڈالا گیا۔ ان میں سے کوئی نہیں جانتا کہ وہ اب گھر کب جائے گا۔ 27 دن گزر چکے ہیں اور لوگ گھر جانے کے منتظر ہیں۔ وزیر آباد کوارنٹائن میں رہنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ “جب ہم نے روزانہ سنٹر میں آنے والے اے ڈی ایم سے پوچھا کہ گھر کب جائیں گے، تو انھوں نے کہا کہ کوارنٹائن سنٹر کو ‘نانی’ کا گھر تصور کرو۔ ٹھیک اسی طرح جیسے چھٹیوں میں لوگ اپنے دادا-دادی یا نانا-نانی کے گھر جاتے ہیں، یہاں (کوارنٹائن سنٹر میں) ٹھہرنا ویسا ہی ہے۔”
کوارنٹائن سنٹر میں موجود ایک دیگر شخص نے بھی گھر جانے کے تعلق سے سوال کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ “جب بیرون ملکی لوگوں کو میڈیکل سرٹیفکیٹ دیا جا رہا تھا تو ہم نے پوچھا کہ ہمیں کب ملے گا؟ جواب دیا گیا کہ جب گھر جانے لگیں گے۔ پھر ہم نے پوچھا کہ گھر کب جائیں گے؟ اس پر ذمہ داران نے کہا کہ جب وزارت صحت کی جانب سے منظوری مل جائے گی۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ کووڈ-19 کے لیے کوارنٹائن کی مدت 14 دن ہے، ہم یہاں 27 دنوں سے ہیں۔ ہمیں پتہ نہیں کہ کب ہمیں یہاں سے چھٹی ملے گی۔”
کورونا ٹیسٹ میں نگیٹیو ریزلٹ پانے والا ایک مسلم نوجوان دہلی پولس کے ذریعہ کوارنٹائن سنٹر لے جانے پر کافی نالاں نظر آتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ “ہمیں صرف اس لیے پکڑا گیا کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے مقامی پولس کے مخبروں نے صرف پھنسانے کے لیے ہمارا نام لکھ دیا۔ ہم نہیں جانتے کہ کیوں حراست میں لیا گیا ہے جب کہ تبلیغی جماعت کے جلسہ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔”
وزیر آباد کے لوگوں سے لگاتار بات چیت کرنے والے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ظفرالاسلام خان کا اس پورے معاملے میں کہنا ہے کہ “ایسا لگتا ہے جیسے ان لوگوں کو اٹھا لیا گیا جو باہر گھوم رہے تھے۔ انھیں بلاوجہ حراست میں لے لیا گیا۔ ریزلٹ دکھانے کی کوشش میں دہلی پولس نے ان لوگوں کو پکڑا جو داڑھی رکھتے تھے، پائجامہ اور کرتا پہنے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کو تبلیغی جماعت کا سمجھا گیا۔ بیشتر لوگ جنھیں حراست میں لیا گیا وہ غلط وقت میں غلط جگہ پر تھے۔ میں نے کچھ لوگوں سے سنا ہے کہ وہ شادی کی تقریب میں شریک ہونے نکلے تھے اور پولس نے پکڑ لیا۔”
دہلی پولس کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق سوالوں کا جواب دہلی حکومت سے پوچھا جانا چاہیے۔ دہلی پولس کے پی آر او ایم ایس رندھاوا کہتے ہیں کہ ” کوارنٹائن کیے گئے لوگوں سے متعلق کوئی بھی سوال دہلی حکومت سے کریں۔” اس کے بارے میں جب پوچھا گیا تو ضلع مجسٹریٹ ششی کوشل کہتی ہیں کہ “حکومت کے ذریعہ کانٹیکٹ ٹو کانٹیکٹ ٹریسنگ کرکے بھلائی کے لیے انھیں کوارنٹائن کیا گیا ہے۔ اگر انھیں کوئی مسئلہ ہے تو وہ پولس سے شکایت کر سکتے ہیں۔ کون شکایت کر رہا ہے، مجھے ان کے نام بتائیں؟ لوگوں کو بغیر کسی ذات اور نسل کی تفریق کے کوارنٹائن کیا گیا ہے۔ جہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے، برائے کرم وہاں کوئی مسئلہ مت بنائیے۔”
جب ششی کوشل سے پوچھا گیا کہ کوارنٹائن میں رہ رہے لوگوں سے موبائل فون کیوں ضبط کر لئے گئے، تو ایک دوسرے انٹرویو میں وہ کہتی ہیں کہ ایسا لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ پولس نے نظامِ قانون کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایسا کیا۔