دہلی پولس کے ذریعہ مسلمانوں کی لگاتار گرفتاری پر عدالت برہم

لاک ڈاؤن کے ماحول میں لگاتار دہلی پولس کے ذریعہ مسلمانوں کی گرفتاری کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ دراصل لاک ڈاؤن کے دوران دہلی فساد کی جانچ کا بہانہ بنا کر دہلی پولس مسلمانوں کو گرفتار کر رہی ہے اور اس پر روک لگانے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی جس پر پیر کے روز سماعت ہوئی۔ جسٹس سدھارتھ مردل اور جسٹس سنگھ کی دو رکنی بنچ نے مولانا محمود مدنی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سختی کے ساتھ پولس کو حکم دیا ہے کہ جو گرفتاری ہوئی ہیں یا مستقبل میں جو بھی ہوں گی اس کو انجام دیتے وقت ڈی کے باسو بنام ویسٹ بنگال حکومت 1977 مقدمے میں سپریم کورٹ کے ذریعہ طے کردہ گائیڈ لائن پر عمل کیا جائے۔ بنچ نے سماعت کے دوران اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، وہ ذیلی عدالت میں ریگولر بیل یعنی مستقل ضمانت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ سماعت کے لیے عدالت 29 جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔
واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند نے اپنے وکیل انوپ جارج، جیون چودھری، ایڈووکیٹ نیاز فاروقی اور ایڈووکیٹ طیب کے ذریعہ دہلی ہائی کورٹ میں گزشتہ 22 اپریل 2020 کو ایک عرضی داخل کی تھی۔ اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جبکہ پورا ملک کورونا وائرس کی زبردست وبا سے جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں دہلی پولس فروری مہینے میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے بہانے گلی کوچے سے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج رہی ہے۔ عدالت میں جمعیۃ علماء ہند نے ایسے 45 لوگوں کے نام پیش کیے ہیں جن کو گرفتار کیا گیا۔
بتایا جاتا ہے پولس نے جن لوگوں کو گرفتار کیا ہے، ان کا تعلق جعفر آباد، مصطفیٰ آباد، چوہان بانگر، موہن پوری، عثمان پور، چاند باغ وغیرہ سے ہے۔ دو طالب علم میران حیدر اور صفورا زرغان جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے سبھی ریاستوں کو حکم دیا ہے کہ پیرول، بیل اور فرلاگ کے ذریعہ قیدیوں کو رہا کیا جائے تاکہ جیلوں کی بھیڑ کم ہو۔ لیکن دہلی پولس نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی اور جیلوں کو خالی کرنے کی جگہ اسے بھرنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی دہلی حکومت کے ذریعہ سے قیدیوں کے متعلق ضابطوں میں ‘ایمرجنسی پیرول’ کے اضافہ کو بھی دھیان میں نہیں لایا گیا۔
جمعیۃ علماء ہند نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایک سیکولر سماج کی پولس کا کردار اس طرح نفرت والا، تفریق آمیز اور فرقہ پرستی پر مبنی ہے۔ حالانکہ ایک لاء انفورسمنٹ ایجنسی کے طور پر اس کا کام انسانیت کی خدمت، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور آئین میں دیئے گئے حقوق، آزادی و برابری کو بلا تفریق تحفظ فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ لیکن افسوسناک ہے کہ دہلی فساد میں متاثر ہوئے لوگوں، خصوصاً اقلیتوں کے خلاف دہلی پولس کا کردار غیر انسانی اور ناانصافی سے بھرا رہا ہے۔ لوگوں کی گرفتاری میں کسی بھی قانون اور ضابطہ کی کوئی پروا نہیں کی گئی۔