سابق ہندوستانی کرکٹر عرفان پٹھان نے مفتی مالوہ مولانا ولی اللہ ندوی کے انتقال پر کیاا ظہار افسوس


اندور21اپریل (نیا نظریہ بیورو) مفتی مالوہ حضرت مولانا ولی اللہ ندوی کے انتقال کی وجہ سے ماحول میں غم چھایا ہوا ہے ۔سابق ہندوستانی کرکٹر عرفان پٹھان اور شہر کے مختلف اداروں سمیت مختلف سوسائٹی کے سربراہان نے ان کے انتقال پر غم کا اظہار کیاا ور ان کی موت کو ملک و معاشرے کے لئے ایک بہت بڑا خسارہ قرار دیا ہے۔ مفتی جنید فلاحی نے اظہارافسوس کرتے ہوئے کہا کہ مفتی مالوہ ولی اللہ ندوی صاحب شہر اندور میں نعمت بن کر تشریف لائے تھے
۔ وہ 56 سال تک نہ صرف مسجد کے امام تھے بلکہ شہر کی ایک باوقار صاحب نسبت شخصیت بھی تھے۔ آپ بھی ایک عالم دوست تھے اورعلم نواز بھی تھے۔ وہ خاموشی اور نرمی جس کے ساتھ امامت کرتے تھے لیکن جب موقع آتا تو وہ اپنی رائے ضرور دیتے اور صدائے حق ہمیشہ بلند کرتے ۔ہندوستانی کرکٹر عرفان پٹھان جو سنہ 2017 میں اندور آئے تھے ، وہ بھی رانی پورہ کچی مسجد پہنچے تھے اور مفتی صاحب سے ملاقات کے بعد بہت متاثر ہوئے تھے۔عرفان پٹھان نے آڈیو پیغام میں کہا کہ مولانا ولی اللہ صاحب کے انتقال کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا ،اللہ انہیں جنت نصیب کر ے ۔
ہندوستان کے مشہور شخصیت، شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی ضیاءاللہ صاحب قاسمی نے کہا کہ مفتی صاحب چاند اور سورج کے مانند تھے ، انہوں نے سب کو روشنی پہنچانے کے لئے کام کیا ، اور شہر ان کے ذریعہ چمکتا تھا۔دولت گنج ایکتا پنچایت کے جے پرکاش ورما نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ولی اللہ ندوی صاحب نے دولت گنج کے ہندو مسلم کو گلے لگانے کا کام کیا۔
دولت گنج ایکتا پنچایت اور چمپا باغ امن کمیٹی کے سربراہ حاجی سراج بھائی جالی والا نے کہا کہ مولانا صاحب دولت گنج ایکتا پنچایت کے روح رواںتھے ، انہوں نے گیتا بھون کے معتمد ین کی حیثیت ست کام کیا ۔انہوں نے گیتا بھون کے ٹرسٹی این ایم ویاس کے ساتھ مل کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تقویت کیلئے کام کیا۔ایک تعزیتی پیغام میں ، نیتا جی سبھاش منچ اور آزادی پسند جنگجوو¿ں کے جانشین تنظیم کے صدر جناب مدن پرمالیا نے کہا کہ مولانا ولی اللہ ندوی صاحب ایک عظیم معاشرتی اصلاح پسند اور پیارے انسان تھے اور انہوں نے بتایا کہ بہتر شہری اور انسان کیسے بن سکتے ہیں۔ ملک کے بڑے عالم دین تھے ۔ مولانا کی وفات پر غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذاتی طور پر میں اور پورا کنبہ انتہائی غم ناک ہے ۔ ان کے چلے جانے سے اس ملک اور معاشرے کے نقصان کا ازالہ کبھی نہیں ہوسکتا۔اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔سرودھرم ایکتا سنگھ کے جناب منظور بیگ نے مولانا مفتی ولی اللہ ندوی صاحب کی شراکت کو یاد کرتے ہوئے کہا ان کاانتقال ناقابل تلافی نقصان ہوا ، ہمارا ملک امن کے حامی سے محروم ہو گیا ۔ وہ اقلیتوں کے ساتھ دین کی بلندی کے لئے مسلسل کوشش کرتے رہتے تھے ۔ادیب اور پنڈت ڈاکٹر بھرت کمار اوجھا بھانو نے کہا کہ مفتی صاحب قرآن مجید کے بہت جاننے والے تھے۔ انہوں نے زندگی میں ہمیشہ نظم و ضبط کو ترجیح دی۔ وہ سادہ زندگی اور اعلیٰ سوچ و فکر والے شخص تھے۔ ان کی موت ر یاست کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔کیپٹن اسرار نشتری نے کہا کہ ہر سال وہ رانی پورہ جھنڈا چوک سے عید میلادالنبی کے موقع پر پیغمبر اسلام کی جانب سے تعلیم کے تئیں کہی گئی باتوں کا ذکر ضرور کرتے تھے ۔
دولت گنج ایکتا پنچایت ، چمپاباغ امن کمیٹی ، میونسپل سیفٹی کمیٹی کے سماجی کارکن جناب سراج بھائی جالی والے ، جناب جئے پرکاش ورما ،جناب محمد سلیم ،جناب مبارک انصاری ، جناب جینتی لال ورما ، جناب فرخ ملتانی ، جناب محمد اسلم ،جناب شکیل انصاری ، جناب یوسف انصاری وغیرہ نے انہیں خراج عقیدت پیش کی ۔