’سنبھل جائیے، اس سے بھی برا وقت آنے والا ہے‘

کورونا وائرس انفیکشن سے پوری دنیا میں تباہی کا عالم ہے اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) تقریباً روزانہ اس سلسلے میں اہم جانکاریاں اور مشورے سبھی ممالک کو دے رہا ہے۔ اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمیت کچھ لوگوں نے اس ادارہ پر چین کی طرفداری کا الزام بھی عائد کیا، لیکن ڈبلیو ایچ او نے اس طرح کے الزامات کو اب تک سرے سے خارج کیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ شروع سے ہی کورونا وائرس کے خطرناک اثرات کے بارے میں سبھی کو متنبہ کیا گیا، لیکن کئی ممالک نے اس پر توجہ نہیں دی۔
ڈبلیو ایچ او نے ایک تازہ بیان میں سبھی ممالک کو سنبھل جانے کی تنبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ “اس سے بھی برا وقت ابھی آنے والا ہے”۔ ڈبلیو ایچ او کا یہ بیان کئی ممالک کے لیے فکر کا باعث ہے۔ خصوصاً ایشیائی اور افریقی ممالک کو ڈبلیو ایچ او نے خصوصی طور پر کورونا سے متعلق بیدار رہنے کو کہا ہے۔
کورونا وائرس وبا کے تعلق سے ڈبلیو ایچ او نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں کورونا انفیکشن اب شروع ہوا ہے اور یہاں صحت خدمات یوروپ و امریکہ کے مقابلے کافی خراب ہے، اس لیے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبریسس کا کہنا ہے کہ کئی اہم وجوہات ہیں جس سے آئندہ وقت مزید مشکل ہونے کا اندیشہ ہے۔ حالانکہ ٹیڈروس نے یہ نہیں بتایا کہ بدتر حالات کے لیے کون کون سے اسباب ہوں گے۔ انھوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ کورونا کے معاملے آنے کے بعد کچھ ممالک نے اب پابندیاں لگانی شروع کی ہیں جب کہ ہم نے کافی پہلے سے سبھی ممالک سے احتیاط برتنے کے لیے کہا ہوا تھا۔
جنیوا میں میڈیا سے بات چیت کے دوران ٹیڈروس نے کورونا وائرس کا موازنہ 1918 کے اسپینش فلو سے بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ “یہ بہت خطرناک حالت ہے اور یہ ہو رہا ہے، 1918 فلو کی طرح، جس میں ایک کروڑ کے قریب لوگوں کی موت ہوئی تھی۔” ٹیڈروس نے مزید کہا کہ “لیکن اب ہمارے پاس تکنیک ہے، ہم اس آفت سے بچ سکتے ہیں، ہم اس طرح کا بحران پیدا ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ ہم پر یقین کریں، سب سے برا وقت ابھی آنے والا ہے۔ آئیں، اس آفت کو روکا جائے۔ یہ ایسا وائرس ہے جسے ابھی بھی لوگ سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔”