ڈاکٹروں کی ٹیم پرحملے روکنے کیلئے میڈیکل ٹیم کی تشکیل ضروری:حاجی محمدہارون


ٹیم میں ہرطبقے کے ڈاکٹر شامل ہوں اورجہاں تفتیش کےلئے جائے وہاں کے مقامی ذمہ دارافراد کوبھی ساتھ میں لے جا نااہم
بھوپال:19اپریل(نیانظریہ بیورو)
ہندوستانی عوام کی جان کی حفاظت کیلئے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت نے جوفیصلے لئے ہیں پورے ملک کے 130کروڑ عوام نے اس کا استقبال کیا ہے اور کو قبول بھی کیا ہے۔ساتھ ہی ہندوستانی مسلمانوں نے بھی اس کودل سے قبول کیا ہے ،یہاں تک کہ مسجدوں میں محدود تعداد میں ایک سے دو لوگ ہی نماز پڑھ رہے ہیں۔ اور اس کے بہتر نتائج بھی سامنے آرہے ہیں ۔دنیا کے دیگر ممالک میں جس طرح کے حالات ہیں الحمدللہ ہمارا ملک اس سے محفوظ ہے۔اور ہم امید کرتے ہیں کہ انشاءاللہ یہ بلا ہندوستان سے اور پورے دنیا سے بہت جلد دور ہو جائیں گی۔ابھی فی الحال ہندوستان میں مختلف مقامات سے خبر آرہی ہے کہ کہیں ڈاکٹروں کی ٹیم پرتو کہیں پولس اہلکاروں پر حملے ہوئے ہیںجس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں،ایسانہیں ہوناچاہئے۔میری تجویز ہے کہ حکومتی سطح پر ہر شہر کے اندر میڈیکل ٹیم بنایاجائے۔ اس ٹیم کے اندر ہر طبقہ کے ڈاکٹروں کولیاجائے،تاکہ جب کہیں ڈاکٹروں کی ٹیم جائے تولوگوں کویہ سمجھ آجائے کہ اس ٹیم میں ہرطبقے کے افراد موجود ہیں۔لہذا انہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اسسے عوام میں جو خوف کا ماحول ہے وہ ختم ہوجائے گا۔میں کہناچاہتاہوں کہ جب عام حالات میں اجتماعی عبادت فرض ہوتا ہے،اسی طرح خاص حالات میں بھی اجتماعی طورپرعبادت نہ کرنابھی فرض ہے۔مذکورہ بالاخیالات کااظہارمدھیہ پردیش جمعیت علماءکے ریاستی صدرحاجی محمدہارون نے حالات حاضرہ پرروزنامہ نیانظرکے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرانہوں نے کہا کہ میری ڈاکٹروں کی ٹیم اور انتظامیہ سے اپیل ہے کہ وہ جس علاقے میں جائیں ، سب سے پہلے علاقے کے ذمہ داران سے رابطہ کریں ،اور ان کواعتبارمیں لیں۔تاکہ ایسانہیں لگنا چاہئے کہ وہ کسی مجرم کو پکڑنے جارہے ہیں ۔کیوں کہ لوگوں میں خوف اسی بات کولیکرہے،جیسا کہ سوشل میڈیا پرافواہوں کے ذریعہ خوف پھیلایاگیاہے۔ انہوں نے دہلی حکومت کی طرح ریاستی حکومت سے آٹو رکشا چلانے والوں،غریبوں ،پلمبروں اور ڈرائیوروں اور بجلی کے کام کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ امداد پہنچانے کی بات بھی کہی۔ان کاکہنا ہے کہ یاسے افراد جوروزکمانے کھانے والے ہیں۔اس وقت دشوار کن حالات سے گزررہے ہیں،وہ کسی کے سامنے ہاتھ بھی نہیں پھیلاسکتے۔ان کی حتی الامکان مددہرلحاظ سے ضروری ہے۔وہیں جولوگ پھولوں کی کھیتی کرتے ہیں جن کے باغ ہیں ان کا کروڑوں کا نقصان ہوا ہے وہ پوری طرح سے برباد ہوچکے ہیں،اسی طرح جو لوگ جانور پالتے ہیں ، اور ضرورت کے وقت وہ اپنے جانور کو بیچ کر اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں ،وہ بھی بہت پریشان ہیں،وہ کیسے اپنے جانوروں کی خریدو فروخت کرسکےں گے اس کا خاص انتظام ہونا چاہئے۔حاجی ہارون کامزیدکہنا ہے کہ جب حکومت نے گوشت کی دوکان کھولنے کی اجازت دیدی ہے توان دوکانوں کوبندرکھنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔اس سے وہ سارے کسان جومویشی پالتے ہیں فاقہ کشی پرمجبورہونگے۔حکومت اورانتظامیہ کواس جانب بھی دھیان دینے کی سخت ضرورت ہے۔اس موقع پرخاص طورپرانہوں نے کہا کہ ملک کے تمام باشندے لاک ڈاو¿ن پرعمل پیراہیں۔سبھی لوگ اس بیماری سے بچنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔لیکن لوگوں کی ضروریات بھی ہیں۔حکومت کوایسے اقدام کرنے چاہئیں جس سے کہ ہرشخص میں اطمینان بحال ہو۔اس وقت ملی تنظیمیں جتنی فراخ دلی سے کام کررہی ہیں۔اگرحکومت ان کاتعاون کریں توکسی کوبھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔