مساجد میں محدود افراد اوربقیہ گھروںپر ہی نماز اور تراویح کا کریںاہتمام :شہرقاضی


بھوپال:16اپریل(نیانظریہ بیورو) کورونا وائرس سے بچاو¿ کے لئے مدھیہ پردیش سمیت پورے ملک میں لاک ڈاو¿ن ٹوبھی جاری ہے اور اس کی وجہ سے لوگوں کو شدید دشواریوں کا سامنا بھی ہے۔ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے دیگر مذاہب کے ساتھ ہی اہل اسلام کی عبادت گاہیں بھی مقفل ہیں اور محدود دائرے میں نماز کی ادائیگی جاری ہے۔ چند روز کے بعد اسلامی سال کا مقدس اور بابرکت مہینہ رمضان سایہ فگن ہونے جارہا ہے ۔ اسے لیکر مسلمانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور وہ اسے لیکر فکر مند ہیں کہ رمضان میں بھی مساجد مقفل رہتی ہیں تو اجتماعی اور خصوصی نماز تراویح کا اہتمام کیسے ہوگا۔ غورطلب ہے کہ حفظ ماتقدم کے تحت حکومت کے ذریعہ نافذ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے دیگر مذاہب کی طرح اہل اسلام کی مساجد میں بھی لاک ڈاو¿ن کے تحت اجتماعی طور سے نمازیں ادا کرنے پر امتناع ہے۔ حالانکہ مسجدوں میں برابر اذان دی جارہی ہے اور تین چار لوگ باجماعت نماز ادا کر رہے ہیں۔ علماءکے ذریعہ لوگوں سے گھروں میں ہی نماز ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اوربقیہ لوگ گھروں میں ہی نماز پڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہ صورت حال لوگوں کوتشویش میں مبتلاکررکھاہے اور اب آئندہ رمضان میں نماز اور تراویح کو لیکرمصلیان بہت زیادہ بے چین نظرآرہے ہیں۔ اسی اثنامیں شہر قاضی مولانا سید مشتاق علی صاحب ندوی نے فرمایاکہ بیشک ماہ مبارک رمضان عنقریب شروع ہونے والا ہے۔مسلمانوں کی بے چینی فطری ہے، لیکن کورونا نامی وبا سے بچاو¿ کے لئے جو تدابیرجاری کی گئی ہیں انہیں اپنانا بھی ضروری ہے۔ عالم اسلام ہی نہیں ہندوستان کے علماءنے بھی کافی غور و خوض کے بعد مسجدوں میں نمازوں کا اجتماعی اہتمام موقوف کیا ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ حالات اگر بہتر نہیں ہوتے ہیں تو مسجدوں میں محدود افراد ہی نماز اور تراویح کا اہتمام کریں گے۔ عام مسلمانوں کے لئے گھروںمیں ہی نمازوں اور تراویح کا اہتمام کرنا بہتر ہوگا۔ گھروں میں افراد خاندان فاصلے کے ساتھ تراویح کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ تراویح سنت مو¿کدہ ہے، اس کا پڑھنا باعث اجر و ثواب ہے۔ قاضی صاحب نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کا روزہ فرض ہے اور اس کا ثواب کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ روزے کا اجر اللہ تعالیٰ خود دیں گے، لہٰذا تمام مسلمان رمضان ماہ کے پورے روزے رکھنے کے ساتھ ہی قرآن کی تلاوت کو ترجیح دیں ۔
لاک ڈاو¿ن میں جمعہ کی بجائے نماز ظہر گھروں میں اداکریں:
اس وقت دنیا بھر میں بہت سے مسلمان نماز جمعہ ادا کرنے سے محروم ہو رہے ہیں۔ اس وقت کورونا وائرس کے خطرہ کے پیش نظر بھوپال کی کسی بھی مسجد میںنماز جمعہ نہیں پڑھی جارہی ہے۔کیوں کہ اس وبائی مرض سے لڑنے کے لئے تمام قوموں نے کمرکس لی ہے۔غورطلب ہے کہ امت مسلمہ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں لیکن اس کے لئے یہ نمازجمعہ اہمیت کی حامل ہے ۔جمعہ کے دن مساجد نمازیوں سے بھری پڑی ہوتی ہیں ، لیکن گزشتہ دنوں سے پورے ملک میں علماءکرام ومفتیان کرام نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ اس مرتبہ کوروناوائرس کے خطرات کے پیش نظرمصلیان مساجد میں نماز جمعہ ادانہیں کریں۔لہذا شہر قاضی نے بھی راجدھانی کے لوگوں سے خاص اپیل کی ہے کہ لاک ڈاو¿ن ٹومیں مزید انیس دن کی مدت بڑھادی گئی ہے۔اس لئے وہ گھر وںمیں ہی پانچوں وقت کی نماز اداکریں۔لوگوں کاکہنا ہے کہ جب ہمارے اکابرین نے یہ اعلان کردیاہے کہ اس وبائی مرض کوپھیلنے سے روکنا ہے تاکہ انسانیت کوخطرات لاحق نہ ہو۔اس لئے تمام مسلمانوں نے اپنے اکابرین کی اپیل پرعمل کیاہے اورمسلسل علماءکرام کی رہنمائی میں اپنی زندگی گزاریں گے۔اب جب تک یہ وائرس مکمل طورپر پھیلنا بندنہیں ہوتا اس وقت تک لوگ اپنی نمازیں گھروں میں ہی اداکریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس دوران اللہ نے آپ کووقت دیاہے ،لہذا اس کابھرپوراستعمال کرتے ہوئے اللہ کے سامنے جھک جائیں اوررو روکرتوبہ واستغفارکریں اوردعاکریں کہ اللہ تعالی اس مصیبت سے پوری دنیاکی حفاظت کرے۔