17 اپریل برسی کے موقع پر ..
ممبئی 16 اپریل (یو این آئی) قلم کی آزادی کے لئے زندگی بھر جدوجہد کرنے اور ’گيتوں کے راجكمار‘ کہے جانے والے گوپال سنگھ نیپالی ہندی ادب، صحافت اور فلم انڈسٹری میں اعلی مقام حاصل کرنے کے علاوہ مشہور شاعر اور نغمہ نگار تھے۔
بہار کے مغربی چمپارن ضلع کے بیتیا میں 11 اگست 1911 کو پیدا ہوئے گوپال سنگھ کی شاعرانہ صلاحیت بچپن میں دکھائی دینے لگی تھی ۔
ادب کی تقریباً سبھی قسموںمیں ماہر نیپالی جی پہلی نظم ’بھارت گگن کے جگمگ ستارے‘ 1930 میں رام ورکش بونی پوری کی لکھی چلڈرن میگزین میں شائع ہوئی تھی ۔
بطور صحافی انہوں نے کم از کم چار ہندی میگزین ’رتلام ٹائمس، چترپٹ، سدھا اور یوگی‘ کی اشاعت کی تھی۔
سال 1944 میں وہ کل ہند کوی سمیلن میں شرکت کے لئے ممبئی آئے تھے۔
اس کوی سمیلن میں فلمساز ششدر مکھرجی بھی موجود تھے جو ان کی شاعری سے بے حد متاثر ہوئے۔
اسی دوران ان کی شہرت سے متاثر ہوکر فلمستان کے مالک سیٹھ تلارام جالان نے انہیں دو سو روپے ماہانہ بطور نغمہ نگار چار سال کے لئے طے کر لیا۔
نیپالی جی نے سب سے پہلے 1944 میں فلمستان کے بینر تلے بنی تاریخی فلم مزدور کے لئے گیت لکھے۔
اس فلم کے گیت اتنے مقبول ہوئے کہ بنگال فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے انہیں 1945 کا بہترین نغمہ نگار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
انہوں نے 60 سے زائد فلموں کے لئے تقریبا 400 سے زائد گیت لکھے جس میں بہت سے گانے بہت مشہور ہوئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر نغموں کی دھنیں بھی خود انہوں نے ہی بنائی تھیں۔
فلم انڈسٹری میں نیپالی نغمہ نگار تک ہی محدود نہیں رہے۔
انہوں نے بطور نغمہ نگار شناخت بنانے کے بعد فلم سازی کے میدان میں بھی قدم رکھا اور ہمالیہ فلمس اور نیپالی پکچرز فلم کمپنی بنائی اور اس کے بینر تلے تین فلمیں نذرانہ (1949)، سنسنی (1951) اور خوشبو (1955) کی تخلیق کی لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم کامیاب نہیں ہو پائی۔
گوپال سنگھ نیپالی اچانک 17اپریل 1963 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔