Naya Nazariya Urdu Daily from Ujjain

سچر کمیٹی کا ذکر کانگریس کے منشور میں نہ ہونا مسلمانوں اور کانگریس کےلئے بدقسمتی :سابق گورنر عزیز قریشی

Thumb

اردو صحافت کی ریاست میں ترقی نہیں ہونے کی وجہ اردو والوں کی بے حسی ہے، ریاست میں کانگریس کو تقریباً 20سیٹ ملیں گی
 کانگریس کے قدآور لیڈر اور سابق گورنر جناب عزیز قریشی سے ملک، قوم، اردو زبان ، اردو صحافت اور انتخابات کے سلسلے میں طویل گفتگو روزنامہ نیا نظریہ کے نمائندہ حافظ محمد اسد نے کی۔ پیش خدمت ہے اسی بات چیت کے کچھ خاص اقتباسات:
سوال : موجودہ حالات میں انتخابات سے آپ کی کیا امید ہے؟
جواب: موجودہ حکومت پوری طرح سے ہارے گی۔مودی صاحب نے جو ملک کو گمراہ کیا ہے اورپورے دیش کوتباہ وبرباد کیا ہے اس کے نتیجے میں ملک کی عوام اس مرتبہ ان کواقتدار سے بے دخل کرے گی۔
سوال : ریاست میں آپ کے مطابق کانگریس اور بی جے پی کو کتنی کتنی سیٹ مل سکتی ہے؟
جواب : میرے خیال سے موجودہ حالات کودیکھتے ہوئے کانگریس کو ریاست میں اس مرتبہ کم سے کم 20سیٹیں ملیں گی۔
سوال : ریاست میں اردو صحافت کا کیا کردار آپ نے اب تک محسوس کیا ہے؟
جواب : بھوپال میں اردو صحافت کی تاریخ بہت عظیم الشان رہی ہے۔مگربدقسمتی سے آج جوحالات ہیں اس میں کوئی اخبار اردو کادکھائی نہیں دیتا ہے۔مقامی ایک اخبار رہاہے جوپوری طرح قوم اورعوام کی آواز بننے میں ناکام رہاہے۔جس طرح اس کو اپنا کردار اداکرناتھا وہ نہیں کرپایا۔بھوپال سے صرف ایک ہی مقامی اردو اخبار ہے جویہاں کے لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے ،لیکن میری سمجھ سے وہ پوری نمائندگی کررہاہوایسانہیں لگتا۔ اب کچھ اوراخبارات بھی بھوپال شہرسے شائع ہورہے ہیں ،لیکن ان کی موجودگی بھی درج نہیں ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اگرآپ یہ سمجھیں کہ جوقوم کی نمائندگی کرے ، جواس کے جذبات کی بے خوف اورنڈر ہوکرترجمانی کرے ،ایسا بھی دکھائی نہیں دیتاہے۔ 
سوال : آپ کی رائے میں اب تک ریاست میں اردو صحافت اپنا ایک الگ مقام کیوں نہیں بنا سکی؟
جواب : اس کی بہت سے وجوہات ہیں۔ تاریخی وجہ بھی ہے،جب یہاں نوابی دوررہااس وقت بھی یہاں کوئی بڑااردو اخبار نہیں تھا۔شروعاتی دورمیں صرف ”ندیم“تھا اس کے بعد افکار بھی کچھ عرصہ دکھائی دیا۔حقیقت میں ندیم نواب صاحب کی ملکیت تھا،اس وجہ سے وہ کانگریس اوراس سے منسلک اداروں کوپوری طرح سے خارج کئے ہوئے تھا۔ اس دورمیں نواب صاحب کے خلاف بھی یہاں ایک بڑی طاقتورتحریک تھی۔اس کی وجہ سے بھی عوام ندیم سے بہت زیادہ نہیں جڑپائی۔ اردوصحافت ریاست میں جوالگ مقام نہیں بناپائی اس کے لئے اردو والوں کی بے حسی اور غیردلچسپی سب سے بڑی وجہ ہے۔اردووالے اخبارتوپڑھناچاہتے لیکن اس کوخریدنا اوراس میں اشتہار دیکر مالی تعاون کرنے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ 
سوال : روزنامہ نیا نظریہ اُجین اور دہلی سے پہلے سے شائع ہو رہا ہے اور اُجین ایڈیشن ریاست کے بڑے حصے جس میں اندور، دیواس، مہدپور، رتلام، جاورہ اور دیگر علاقوں میں کافی مقبول ہو چکا ہے اور اب جب کے روزنامہ نیا نظریہ بھوپال سے منظر عام پر آ رہا ہے تو آپ کو اردو صحافت کا مستقبل بھوپال اور پوری ریاست میں کیسا دکھائی دیتا ہے؟
جواب : میری بدقسمتی ہے کہ میں اب تک اس کودیکھ نہیں پایاتھالیکن اس کے بارے میںسناضرورتھا۔جب مجھے یہ پتہ چلاکہ محمود ذکی صاحب جیسے جیدشاعر کے نام سے ان کے صاحبزادے ایک اخبارشائع کررہے ہیں تو اس سے لگتاہے کہ اردو صحافت کامستقبل روشن ہی رہے گا۔روزنامہ نیانظریہ کے عزائم کودیکھتے ہوئے میں پوری طرح اس وقت مطمئن ہوں کہ مدھیہ پردیش جیسی ریاست میں بھی اردوصحافت میں یہ اخبار نہ صرف قوم کی آواز بنے گابلکہ پوری ریاست کی عوام کی آوازبن کرحکومت تک اس کو پہنچائے گا۔عوام کے جائز مطالبات کو حل کرانے میں مثبت پہل کرے گا۔ عوام کی پوری طرح ترجمانی کرے گا۔ میں اس اخبار کے مستقبل کو روشن ہی دیکھتا ہوں۔ اس کی ٹیم جس طرح سے بھوپال میں کام کر رہی ہے اس کا مجھے کچھ کچھ علم ہے اور میں مطمین ہوں کہ یہ روزنامہ نیا نظریہ کے ذریعے اردو صحافت ریاست میں اپنا ایک الگ مقام بنانے میں کامیاب ہوگی۔ 
سوال : عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش سے سیاسی اور مذہبی مسلم لیڈرشپ قومی سطح تک اپنا مقام بنانے میں اتنی کامیاب نہیں ہے جتنی دوسری ریاستوں سے ہے، آپ کی نگاہ میں اس کی کیا وجوہات ہےں؟
جواب : اس وقت ملک میں جوبھی مسلم لیڈرشپ جو ہے خواہ وہ کسی بھی پارٹی کی ہومجھے کوئی حرج نہیں کہ میں کہوں کہ کانگریس میں بھی کوئی ایسا نہیں دکھائی نہیں دیتا جومسلمانوں کی آواز پوری طاقت کے ساتھ اٹھائے۔ اگر کو ئی مسلم رہنما اپنی حمیت ،غیرت کوبرقرار رکھتے ہوئے زندہ رہنے کی کوشش کرے۔ کوئی بھی پارٹی اس کوزندہ نہیں رہنے دیتیں۔یہ المیہ ہندستان میں بڑے زمانے سے ہے۔ لیکن اس سلسلے میںبھی میں مایوس نہیں ہوں کیوں کہ جب بھی اللہ میاںمجھ سے اس بارے میں سوال کرے گا تو میں اس میں صاف نکل جاو¿ں گا۔ ہاں مانا میں اچھا مسلمان نہیں لیکن اس سب کے باوجود میں اپنے آپ کی کوئی قیمت نہیں لگنے دی۔ ہوتا یہ ہے کہ جب بھی کوئی رہنما اپنا ایک مقام بناتاہے ویسے ہی لوگ اس کی قیمت لگا دیتے ہیں اور اس کا عتراف کرنا ہوگا کہ لوگ بک بھی جاتے ہیں۔میںنے گورنر رہتے ہوئے اور گورنر کی کرسی کو چھوڑنے میں کبھی غم نہیں کیا۔ جو کام قوم ، ملت اور ملک کے لئے ضروری ہے اس کو صحیح وقت پر کیا۔
سوال : آپ کیو ں کہ کانگریس کے سینئر لیڈر ہیں تو آپ ہی سے پوچھا جا سکتا ہے کہ یوپی اے مطلب کانگریس کے زمانے میں ہی سچر کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی تھی اور اس کی رپورٹ کے مطابق ہی ملک کا مسلمان آج دلتوں سے بھی بدتر حالات میں اپنی زندگی بسر کر رہا ہے، لیکن حیرانی ہوتی ہے کہ وہ ہی کانگریس اپنی قومی منشور میں سچر کمیٹی کا ذکر تک نہیں کرتی ہے۔آپ کیا سوچتے ہیں؟
جواب : یہ پوری طرح سے بدقسمتی ہے کانگریس پارٹی کی بھی اورمسلمانوں کی بھی۔کیوں کہ جوہماری مرکزی قیادت ہے خاص طورسے نہروخاندان جس میں سونیاگاندھی اورراہل گاندھی بھی ہیں ان کے سیکولرزم کی کوئی حدنہیں ہے، وہ پوری طرح سے سیکولرہےں۔ان کی سوچ،ان کی ہمدردی،ان کے جذبات مسلمانوں کے لئے اوراردو کے لئے بہت زیادہ ہیں۔لیکن ان کے آس پاس جومشیرموجودہیں اس میں ان کی غلطی ہے۔ جب کبھی مسلمانوں کی کوئی بات ان تک آتی ہے تو یہ مشیر بتانے لگتے ہیں کہ ملک میں عوام یہ سمجھتی ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی بن گئی ہے۔یہی مشیربتاتے ہیں کہ جب پارٹی مسلمانوں کی بات کرتی ہے تو ہندو ووٹ ہم سے دور ہونے لگتا ہے۔ اسی سلسلہ میں ایک بارانٹونی رپورٹ بھی کانگریس میں آچکی ہے،جس سے میں متفق نہیں ہوں۔ حالانکہ اے کے انٹونی میرے قریبی دوست ہیں ،پھربھی میں ان کی رپورٹ سے اختلاف رکھتاہوں۔ ایک زمانہ میں اندراگاندھی کوبھی اسی طرح کی باتیں کہی گئی تھیں۔جب 1970میں چناو¿ ہارنے کے بعد کانگریس کی ایک میٹنگ میں کچھ لوگوں نے کہا کہ مسلم ممالک کاساتھ دینے اوراسرائیل کی مخالفت کرنے کی پالیسی کااثر عوام میں بہت زیادہ ہے ،توانہوں نے اس پرکہاتھا کہ یہ میری اورہندستان کی پالیسی ہے۔ہم اس پرہمیشہ عمل پیرارہیں گے۔ لیکن آج کل کانگریس کااعلی کمان ان کے مشیروں کی بات کومانتے ہوئے مسلمانوں سے ایک دوری بناکرہندوو¿ں کے قریب جانے کی کوشش کرتانظرآتا ہے۔ جبکہ میں مانتا ہوں کہ عملی طورپریہ بات پوری طرح سے غلط ہے۔اب تک کانگریس نے یاکسی بھی حکومت نے مسلمانوں کے لئے کیاخاص کردیا ہے۔ اس میں ملک میں مسلمان سچرکمیٹی کی رپورٹ کے مطابق دلتوں سے بھی بدترحالات میں اپنی زندگی بسرکررہاہے۔

Ads