Naya Nazariya Urdu Daily from Ujjain

ملک میں اب تک دو ہزار سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کا ہو چکا ہے رجسٹریشن، اسکے پیچھے کا کیا ہے کھیل؟

Thumb

بھوپال11اپریل( نیا نظریہ بیورو)دنیا کے سب سے بڑے جمہوریت والے ملک میں کئی پارٹیاں سیاسی جماعت کا رجسٹریشن کراکر سماج کی خدمت کے بجائے اپنا الو سیدھا کرنے میں لگی ہیں۔ رجسٹریشن کرانے کے بعد ان سیاسی جماعتوں کو ٹیکس میں چھوٹ مل جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ جماعتیں کالے دھن کو سفید کرتے ہیں۔رجسٹریشن کی یہ روایت گزشتہ دس سالوں میں کافی بڑھ گئی ہے۔بتایاجاتاہے کہ کئی سیاسی پارٹیاں ایسی ہیں جسے سیاسی انتخابات میں حصہ نہیں لینے کے بعد بھی الیکشن کمیشن کے ذریعہ انکا رجسٹریشن کرایا گیا ہے۔جب میڈیاکی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ کئی ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جس کی سیاسی جماعت کی شکل میںرجسٹریشن توہے لیکن وہ انتخابی میدان میں نہیں اترتے۔ وہ ٹیکس چھوٹ کا فائدہ اٹھاکر کالے دھن کو سفید کرنے کا کام کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں بھی تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کی طرح کئی طرح کی چھوٹ ملتی ہے۔ وہیں الیکشن کمیشن اس معاملے میں لاچار نظر آتا ہے، کیونکہ الیکشن کمیشن کو ان سیاسی جماعتوں کے رجسٹریشن کاکام کرنے کاحق توہے، لیکن ان کے رجسٹریشن کو ردّ کرنے کا حق الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔
ملک میں 2 ہزار دو سو سیاسی جماعتیں ہیں :
جہاں تک ملک میں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کی بات کریں، تو تقریباً 2 ہزار 2 سو سیاسی جماعتوں کارجسٹریشن ہے۔ دیکھا جائے تو 2010 کے مقابلے یہ تعداد گزشتہ 9 سال میں دوگنی ہو گئی ہے۔ انڈین الیکشن کمیشن کی معلومات کے مطابق2014 کے عام انتخابات میں صرف 464 سیاسی جماعتوںنے انتخاب میں حصہ لیا تھا۔ جو موجودہ صورتحال میں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کا 20 فیصد ہے۔ دراصل اس نظام کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت 20 ہزار تک چندہ اکٹھا کرتا ہے، تو اسے کوئی ٹیکس نہیں لگتا ہے۔ وہیں یہ سیاسی جماعتیں اس نظام کافائدہ اٹھاکر کالے دھن کو سفید کرنے کا کام کرتے ہیں۔
سیاسی پارٹیاں نہیں دیتی ہیںرقم کاحساب: ان سرگرمیوں کے معاملے میں مدھیہ پردیش کے چیف الیکشن آفیسروی ایل کانتاراو¿ کا کہنا ہے کہ فی الحال انڈین الیکشن کمیشن نے 2 ہزار دو سوسیاسی جماعتوںکومنظوری دی ہوئی ہے۔ ان سبھی سیاسی جماعتوں کا جب رجسٹریشن ہوتا ہے تو انکے ساتھ الیکشن کمیشن شرط رکھتا ہے کہ وہ کیاسرگرمیاں کرتے ہیں۔ انکا کیا بجٹ ہے، کتنا پیسہ وہ لوگوں سے اکٹھا کرتے ہیں اور کتنا خرچ کر رہے ہیں۔ یہ حساب انکو الیکشن کمیشن کو دینا ہوتا ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر پارٹیاں اسکا بیورا نہیں دیتی ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو پتہ نہیں چلتا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

Ads