Naya Nazariya Urdu Daily from Ujjain

وزراءکے متنازعہ بیان سے پریشان وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے میڈیا سے بات چیت پر لگائی روک

Thumb

بھوپال،  مدھیہ پردیش میں کانگریس حکومت کے وزرائکے ذریعہ مسلسل متنازعہ بیانات دینے جانے سے پریشان وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ان کی میڈیا سے بات چیت پر روک لگا دی ہے۔ کسی بھی معاملے پر بات چیت کے لئے سی ایم کمل ناتھ نے تعلقات عامہ کے وزیر پی سی شرما سمیت محضسات وزراءکو میڈیا سے روبرو ہونے کے لئے مقرر کیا ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور وزیر کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وہیں اس پورے معاملے میں بی جے پی نے سوال اٹھاتے ہوئے اسے اظہار رائے کی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔حکم کے سلسلے میں معلومات دیتے ہوئے ہوئے تعلقات عامہ کے وزیر پی سی شرما نے بتایا کہمیڈیا سے بات کرنے کے لئے ان کے علاوہ چھ دیگر وزراءکو اختیار دیاگیا ہے، جس میںثقافت وطبی تعلیم کے وزیر لکشمی سادھو، وزیر داخلہ بالا بچن، اعلیٰ تعلیم اور وزیر کھیل جیتو پٹواری، عوامی صحت کے وزیر سکھدیو پانسے، شہری ترقی کے وزیر جے وردھن سنگھ اور وزیر خزانہ ترون بھنوٹ کو مقرر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق روک لگائے جانے پر وزراءکو اعتراض ہے، لیکن کوئی کھل کر نہیں بول رہا ہے۔ وہیں بی جے پی کا اس پورے معاملے پر کہنا ہے کہ یہ اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے، وزراءکو عوام کے درمیان اپنے خیالات رکھنے کا پورا حق ہے۔بتاتے چلیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی کانگریس کے وزیر متنازعہ بیان دے کر حکومت کی مشکلیں بڑھا رہے تھے۔ گزشتہ دنوں وزیر زراعت سچن یادوکے ذریعہ بھاوانتر منصوبہ بند کئے جانے سے متعلق بیان، پی ڈبلیو ڈی وزیر سجن سنگھ ورما کی طرف بی جے پی ایم پی اور اداکارہ ہیما مالنی پر متنازعہ تبصرہ کرنے اور خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر امرتی دیوی کے ذریعہ وزارت میں فائلیں دیکھ کر نیند آنے جیسے بیانات سے حکومت کی جم کر کرکری ہوئی تھی۔
 جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن سڑکوں پر اتر آئی تھی۔ ایسے میں لوک سبھا انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کسی طرح کا رسک نہیں لینا چاہتی ہے۔ 

 

Ads