Naya Nazariya Urdu Daily from Ujjain

عربی زبان و ادب کے فروغ میں علما ہند کا کردار

Thumb

معربی زبان و ادب اقوام عالم کی ان زندہ و پائندہ زبانوں میں سے ہے جس نے ابتدا ہی سے اپنی مٹھاس، شیرینی اور اثر پذیری سے ایک عالم کو اسیر کیا۔ یہ و ہ زبان ہے جس میں امم ماضیہ کے احوال و کوائف موجود ہیں۔ اس کی اہمیت و فضیلت اس سے دو چند ہو جاتی ہے کہ خاتم النبیین، سید المذنبین صاحب جوامع الکلم محمد مصطفی کی زبان عربی تھی اور قرآن کریم جو انسانیت کے لیے آخری پیغام ہے وہ عربی ہی میں ہے۔ اسلام کی صحیح فہم اور کسی بھی مسئلہ کی حقیقی رسائی بغیر عربی پر دسترس کے ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا ہی سے اس کی نوک وپلک درست کرنے اور اس کی بقا و تحفظ کے لیے اقوام عالم کی ایک جماعت ہمیشہ کاربند رہی ہے۔تصنیف و تالیف، درس و تدریس اور رسائل و جرائدکے ذریعہ اس کی ہر طرح کی نشر و اشاعت حفظ و صیانت کی ہے۔ زمانہ جاہلیت، عہد نبوی او راس کے بعد کے ادوار میں جس طرح عربی شاعروں، ادیبوں اور نثر نگاروں نے اس کے ادب پارے اور لسنیات کی حفاظت میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہے،وہیں پر دنیا کے دوسرے ممالک جہاں کی زبان عربی نہیں ہے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اس سلسلے میں ایک قابل ذکر نام ہندوستان کا ہے جو شروع ہی غیرملکی سرمایے کی حفاظت میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ہندوستانی علما جہاں مختلف علوم وفنون اور زبانوں کے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہیں وہیں پر عربی زبان و ادب کی بقا و تحفظ میں ا ن کی خدمات تاریخ عربی ادب کا ایک روشن بھی باب ہے۔عربی زبان میں بحیثیت زبان و ادب علما ے ہند کے کارنامے کو کئی حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں جیسے عربی لغات، معاجم و قوامیس کی تالیف، فلسفہ زبان اور علوم عربیت کے موضوع پر تصانیف، شعر و شاعری، عربی صحافت و لٹریچر،رسائل و جرائد کا اجرا اور دواین کی تشکیل جیسے اہم گوشے ہیں جو قابل ذکر ہیں۔ ذیل کی سطور میں ذیلی عناوین کے تحت علما ے ہند کے ان کارناموں کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو عربی سے متعلق ہے، ملاحظہ ہوںعربی لغت و ڈکشنری اور فلسفہ زبان کے موضوع پر کسی عجمی النسل کا قلم اٹھانا ان کی عربی دانی اور عمدہ ذوق کا پتہ دیتا ہے۔ اس معاملہ میں سرزمین ہند ہمیشہ سر فہرسرت رہی ہے اس کے خوشہ چیں علوم و فنون کے میادین میں کارہائے نمایاں انجام دے کر پوری دنیا میں ہندوستان کا علم دوست اور علمی سرمائے کی حفاظت میں ان کے کارنامے کا عملی ثبوت فراہم کیے ہیں۔ جہاں تک بات کسی ہندوستانی عالم سے عربی لغت کی ہے تو اس سلسلہ میں سب سے پہلی علمی و ادبی خدمت ساتویں صدی عیسوی کے مشہور امام لغت و حدیث حسن محمد صغانی کی ہے جن کے نسخہ حدیث سے حافظ ابن حجر نے بیشتر چیزوں کو نقل کیا اور اسی پر اعتماد کیا۔ ان کی لغت ”العباب الذاخر، ،ہے، لیکن افسوس یہ نا مکمل ہے۔ اسی طرح ”مجمع بحار الانوار فی غرائب التنزیل و لطائف الاخبار، ،شیخ محمد طاہرپٹنی عظیم تحقیقی قرآنی ڈکشنری ہے جو چار جلدو ں میں ساڑھے سولہ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میدان میں سب سےبڑی خدمت سید مرتضی بلگرامی نے انجام دیا۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ”تاج العروس فی شرح القاموس، ،ہے جو محتاج تعارف و تعریف نہیں ہے۔ اسی طرح اس صنف میں اپنی عربی دانی کا جادو جگانے والے مولانا وحید الزماں حید رآبادت ہیں ان کی کتاب ”انوار اللغات اور وحید اللغات، ،قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح ہندوستانی مولفین میں محمد حسن خاں ٹونکی ہیں جنہوں نے ڈکشنری کے طرز پر مصنفین اسلام کے تذکرہ و تراجم اسی جلدوں پر مشتمل کتاب ”معجم المصنفین، ،لکھی جو دائرہ العثمانے حیدرآباد سے شائع ہو چکی ہے۔قرآن مجید عربی زبان کے بنیادی سرچشموں میں سے ایک ہے اس لیے عربی ادب سے علما ے ہند کی خدمات کا ایک تابناک گوشہ ہے کہ انہوں نے قرآ ن مجید کے الفاظ و مفردات کلمات کے لغوی تشریح الگ سے کی ہے۔ اس کی سعادت سب سے پہلے محی السن، مجدد علوم و فنون نواب صدیق حسن خاں کو ملی جن کے زیر اشراف پہلی قرآنی ڈکشنری ”فتح المنان فی ترجمہ لغات القرآن، ،تالیف ہوئی۔ اسی طرح مولانا بدیع الزماں کی قرآ ن سے متعلق عظیم کتاب ”سبیکہ الذھب الابریز فی فھرس الکتاب العزیز، ،۱۲۹۶ ھ میں نواب صاحب ہی کے مطبع سے شائع ہوئی۔ او ر شہید الدین جعفری کی قرآنی ڈکشنری ”عمدہ القرآن، ،قاضی سجاد حسین میرٹھی کی ”قاموس القرآن، ،(اردو)اس صنف کی اہم تصنیفات میں سے ہیں۔ (دیباچہ قاموس القرآن )آج کے اس مشینی دور میں جہاں انسان زندگی میں اتنا مصروف ہو گیا ہے کہ اب دو آدھ گھڑی اپنی علمی بازیابی اور اس کی حفاظت کے لیے نکال نہیں پاتا، لیکن بھیڑ و اڑدہام کی اس حالت میں بھی علم دوست افراد اپنی علمی مصروفیات میں مگن رہے ہیں۔ اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی مورخ اردو ادب سیدسلیمان ندوی کی ڈکشنری ”لغات جدید، ،ہے جو انتہائی مستند و مسلم ہے۔ اس پر سید ابو الحسن ندوی کا ایک عمدہ و محققانہ و فاضلانہ مقدمہ بھی شامل ہے۔ نیز علامہ مسعود عالم ندوی اس پر بحث کرتے ہوئے جدید الفاظ و تراکیب کا ناقدانہ جائزہ لیا اور دور حاضر کے اسلوب و منہج پر بھی فاضلانہ بحث کی ہے جس سے لغات جدیدہ میں چار چاند لگ گیے ہیں۔اسی طرح فا ضل دیوبند مولانا عبد الحفیظ بلیاوی کی عظیم عربی لغت ”مصباح اللغات، ،ہے یہ ڈکشنری ان کا ادبی ذوق کا عملی مظہر ہے۔ اس کتاب کی تالیف میں ”المنجد، ،پر مکمل اعتماد کیا گیاہے۔ آپ ہی کا ایک ادب دوست معاصر، عظیم لغوی وحید الزماں کیرانوی قاسمی کی ایک مفید و ہر عام وخاص کی چاہت ”القاموس الجدید، ،ہے۔ جس میں بیسویں صدی کے عربی میں مستعمل ہونے والے جدید الفاظ، ضرب الامثال، محاورات اور سائنسی و فنی اصطلاحات کو کامیابی کے ساتھ شامل کتاب کی گئیں ہیں۔ یہ ڈکشنری طلبہ مدارس و اساتذہ کے لیے بہت ساری راہیں آسان کردی ہیں۔ اسی طرح ”القاموس الزھری، ،ڈاکٹر کی کتاب بھی جدید دور کے اصطلاحات کے استیعاب میں ایک کامیاب ڈکشنری ہے۔
 اور عربی مجلات و صحافتی اصطلاحات کے لیے ”معجم الحی، ،بدیع الزماں قاسمی کی ڈکشنری بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے علاوہ دیگر لغات و ڈکشنریوں اور تشکیل لغات کا کام جاری و ساری ہے۔عرب سے عربی فلسفہ، اسرار و حکم، نحو و صرف اور فنی اصطلاحات کی تصنیف و تالیف کی کرنیں جو سندھ پر پڑیں اس کاپرتو براہ راست علماے ہند پر پڑا اور علماے ہند نے اس پر خصوصی توجہ دے کر اس میں مزید رنگ و روغن بھرا۔ نواب صدیق حسن خاں بھوپالی کی کل تقریبا ۴۰۰ سو تصنیفات بتائی جاتی ہیں جن میں ۵۶ تصانیف عربی زبان میں ہیں۔ ،جیسی اہم تصنیفات نواب صاحب کی انسائکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ عربی و فارسی کے شاعر بھی تھے۔ پیغمبر اسلام کی شان مدحیہ اشعار کا مجموعہ’القصید العنبرے فی مدح خیر البرے،عرب و عجم میں خاصامقبول و معروف ہے۔ آپ کے بعد اس میدان میں جسٹس کرامت حسین کی ”فقہ اللسان، ،سلیمان اشرف کی ”المبین، ،عربی زبان کے فلسفہ، اسرار و حکم پر کامیاب کتابیں ہیں۔ ان کتابوں سے مولفین کی ذہانت، عمیق نظر اور عربی کے ادبی و لسانی ذوق کا عمدہ مظہر کا پتہ بھی چلتاہے۔ اسی طرح فن بلاغت پر عبد الحمید فراہی کی کتاب ”جمہر البلاغہ، ،خالص عربی بلاغت کا پرتو ہے اور اس میں عجمی بلاغت پر ناقدانہ بحث کی گئی ہے۔

 

Ads