ہم خودکی پراہ کئے بغیرعوام کوکوروناسے محفوظ رکھیں گے:پولس اہلکار


بھوپال:14اپریل(نیانظریہ بیورو)
پورے ملک میں کورونا وائرس کی وباءسے بچنے کےلئے گذشتہ 22مارچ سے لاک ڈاﺅن کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس دوران وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے اپنے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔ بھوپال میں لاک ڈاﺅن کا جائزہ لینے کے لئے ہم نے مختلف علاقوں کا جائزہ لیا ، اس دوران ہم نے کئی لوگوں سے یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ شہر میں کورونا سے بچنے کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔اسی سلسلے میںجوپولس اہلکار اس لاک ڈاﺅن کے دوران اپنی خدمات انجام دے رہے ہیںان سے معلوم کیا کہ ان کو عوام کو سمجھانے میںکیا کیا دشواریاں پیش آرہی ہیںاور عوام اس میںان کی کتنی مدد کررہی ہے۔ جولوگ بے وجہ گھروں سے باہر نکل رہے ہیں انہیں سمجھانے میں کیادشوارہاں پیش آرہی ہیں اور عوام ان کی بات کوکتنا مان رہے ہیں ۔ اس پرانہوں نے کہا کہ عوام کی طرف سے انہیں کافی تعاون مل رہا ہے ، بیشتر لوگ اپنے گھروں سے نہیں نکل رہے ہیں، کچھ لوگ ہیں جن کو لاک ڈاﺅن کا مطلب ہی نہیں پتا ہے ، اور وہ بغیر ضرورت گھومنے کے لئے نکل جاتے ہیں۔ان لوگوں کووہ سمجھاتے ہیں اور گھرواپس جانے کی ہدایت دیتے ہیںاور لوگ واپس اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں، اس میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس لاک ڈاﺅن ڈیوٹی پرتعینات پولس اہلکار سے بدسلوکی کرنے لگتے ہیں ، جس کی وجہ سے ایسے لوگوں پر دفعہ 188 کے تحت کارروائی بھی کرتے ہیں۔وہیں جہانگیرآباد میں ایک شخص کی گذشتہ روز موت ہوگئی تھی جن کا رپورٹ کورونا پازیٹیو آیاتھا ،اس کے بعد ان کے اہل خانہ میں سے 3دیگر لوگوں کو بھی کورونا پازیٹیو نکلنے سے پورے علاقے کو کورنٹائن کردیا گیاہے ۔جس کی وجہ سے لوگوں میں کافی دہشت ہے۔دراصل چین سے نکلنے والا یہ کورونا پوری دنیا کو اپنی زد میں لیا ہوا ہے۔ اس میںدن بدن ہورہے اضافے کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے لاک ڈاو¿ن میں مزید 3مئی تک اضافہ کردیا ہے۔ وہیں عوام سے وزیراعظم نے اس کورونا کی جنگ میں مکمل طور پر تعاون کرنے کی اپیل کی ہے ۔
وہیں باغ امرو¿ دولہا کی رہنے والی ایک خاتون اپنی پریشانی ظاہرکرتے ہوئے بتایاکہ وہ اس وقت منڈی پیدل جارہی ہے،کیوں کہ ان کے گھرمیں کچھ بھی راشن نہیں ہے۔ابھی تک سرکارکی طرف سے بھی کوئی راحت کاسامان مہیانہیں کرایاگیاہے۔محلے میں بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے پاس جوکچھ تھاسب ختم ہوچکاہے۔اب راشن لانے کے لئے ان کے پاس بھی پیسہ نہیں ہے۔اس لاک ڈاو¿ن میں کوئی بھی گھرسے باہرنہیں نکلناچاہتا،مکربھوک مٹانے کے لئے کچھ توچاہئے۔کسی بھی طرح کی کوئی امدادی فنڈ یاراشن کٹ نہیں مل پارہاہے۔ہم سب بہت پریشان ہیں۔اس لئے باہرنکل کرکچھ کھانے پینے کاانتظام کرنے جارہی ہوں۔