شیوراج کابینہ کی تشکیل جلد:


کئی سندھیا حامیوں کومل سکتاہے موقع،کابینہ میں توازن برقرار رکھناہوسکتاہے وزیراعلیٰ کےلئے مشکل
بھوپال:13اپریل (نیانظریہ بیورو)
کورونا بحران کے درمیان وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان جلد ہی کابینہ کی تشکیل کریں گے۔ وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد سے شیوراج پر کابینہ کی تشکیل کو لے کر دباﺅ بناہوا ہے۔ اپوزیشن لیڈر اس کو لے کر حکومت کی گھیرابندی میں مصروف ہےں۔ شیوراج کابینہ میں تجربہ کارلیڈروں کے ساتھ ساتھ سندھیا خیمے کے لیڈران کو بھی موقع مل سکتا ہے۔ کئی سابق وزراءکا اس مرتبہ پتہّ کٹ ہوسکتا ہے۔دراصل شیوراج سنگھ چوہان وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد سے ہی کورونا سے جنگ میں مصروف ہیں۔ جس کی وجہ سے کابینہ کی توسیع کا فیصلہ مسلسل آگے بڑھتا چلا گیا ۔ اب امید ہے کہ اسی ہفتے شیوراج اپنی ٹیم کا انتخاب کرسکتے ہیں اور سادگی اورسوشل ڈسٹنس پرعمل کرتے ہوئے کورونا سے بچنے کے سبھی ضروری اقدامات کو اختیار کر کابینہ کی توسیع ہوسکتی ہے۔ کابینہ میں رجحان بنانا شیوراج کے لئے چلینج ہوگا۔
سندھیا حامی بنےں گے وزیر:
وزیربننے کے حالات جو گذشتہ کمل ناتھ حکومت میں رہی تھی، وہی اب شیوراج حکومت میں بھی ہے۔ کیوںکہ اقتدار میں واپسی میں اہم کردار میں رہے جیوتی رادتیہ سندھیا کے حامی لیڈران کو اپنی حمایت میں لےنے کے لئے موقع دینا ضروری ہوگا۔سندھیا حامی 22کانگریس ایم اےل اے نے اپنے استعفیٰ سونپ کر 15مہینے پرانی کمل ناتھ حکومت کو اقلیت میں پہنچادیا۔ اس کے علاوہ آزاد ایم ایل ایز،ایس پی اوربی ایس پی کو بھی موقع مل سکتا ہے۔ کابینہ میں وزیراعلیٰ سمیت 35کارکن رہ سکتے ہیں۔ لیکن فی الحال تقریباً ایک درجن وزیر بنائے جاسکتے ہیں۔ کورونا بحران ختم ہونے کے بعد شیوراج کابینہ کی توسیع کر دیگر کو موقع دے سکتے ہیں۔
شیوراج کی نئی ٹیم میں پرانے چہرے بھی دعویدار:
شیوراج کی نئی ٹیم میں شامل ہونے کے لئے پرانے چہرے بھی اس مرتبہ دعویداروں کی قطار میں ہیں۔ وہیں سندھیا حامیوں میں چھ لیڈر کمل ناتھ حکومت میں وزیر تھے۔ ممکن ہے کہ شیوراج حکومت بھی انہیں واپسی کرنے کا یقین دلایا ہو۔ ان میں ڈاکٹر پربھورام چودھری، گووند سنگھ راجپوت، تلسی سلاوٹ، پردیمن سنگھ تومر، مہیندر سنگھ سسودیا اور امرتی دیوی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بساہولال سنگھ ، ہردیپ سنگھ ڈنگ، راجےوردھن سنگھ دتیگاﺅںاور اےدل سنگھ کنشانا کی بھی نئے کابینہ میں تاج پوشی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ میں خاص طور پر ضمنی انتخابات والے علاقوں کا بھی خیال رکھا جائے گا۔