زرعی قوانین کی واپسی: ریاست میں مختلف کسان تنظیموں نے منایا جشن،کملناتھ نے فیصلے کا کیا خیر مقدم


بھوپال19نومبر(نیا نظریہ بیورو)وزیر اعظم نریندر مودی نے گرو نانک جینتی کے موقع پر زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت کمل پٹیل نے کہا کہ ہم کسانوں کو راضی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں، اس لیے وزیر اعظم نے معافی مانگتے ہوئے واپس لئے ہیں۔ تاکہ ہمارے کسان بھائی مطمئن رہیں۔
دوسری طرف اہم اپوزیشن کانگریس کے ریاستی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے کہا کہ یہ کسانوں کی سخت جدوجہد کی جیت ہے۔ جس نے ایک متکبر اور ضدی حکومت کو جھکا دیا۔جن کسانوں کو بی جے پی کے لوگ ان زرعی قوانین کی مخالفت کی وجہ سے کبھی کانگریس کے حامی، کبھی ملک دشمن، دلال اور یہاں تک کہ دہشت گرد بھی کہتے تھے یہ ان کی شکست ہے۔ اس کے ساتھ ہی گوالیار سمیت ریاست بھر میں کسان تنظیموں نے جشن منایا ہے۔
وزیر زراعت نے کہا کہ وزیراعظم نے کسانوں کے فوائد میں اضافے کے لیے تاریخی فیصلے کیے ہیں۔ ہماری حکومت کسانوں کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ آج تک کسی نے کسانوں کے لیے اتنا نہیں کیا جتنا وزیر اعظم مودی نے کیا ہے۔ ملک میں 80 فیصد سے زیادہ کسان چھوٹے ہیں۔ ان کے لیے کسان سمان ندھی ہے اور مدھیہ پردیش میں کسان کلیان ندھی بھی ہے۔ ریاست کے کسانوں کو ہر سال 10 ہزار روپے مل رہے ہیں۔
کمل پٹیل نے کہا کہ ہماری حکومت کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین کسانوں کے مفاد میں ہیں۔ کسانوں کی طرف سے اس کی بڑی حمایت کی گئی تھی۔ کسان تنظیموں نے پنجاب، ہریانہ اور یوپی کے کسانوں کو اکسایا۔ ساتھ ہی وہ مسلسل احتجاج کرتے رہے۔ ہم نے وزیر اعظم کی قیادت میں کسانوں کو راضی کرنے کی بہت کوشش کی۔ ہم انہیں سمجھا نہیں سکے۔ اس لیے وزیر اعظم نے سب کا ساتھ اور سب کا وِکاس کی بات کرتے ہوئے زرعی قوانین کو واپس لے لیا ہے۔
کمل ناتھ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر لوگ اسی طرح بی جے پی کو سبق سکھاتے رہے تو اسی طرح جیت ہوتی رہے گی۔ اب مودی حکومت کو ان قوانین کے خلاف جاری احتجاج کے دوران ملک بھر میں کسانوں کے خلاف درج مقدمات کو بھی واپس لینا چاہیے۔ اس تحریک کے دوران 600 سے زیادہ کسانوں کی موت ہو گئی۔ اس احتجاج کے دوران کسانوں کو بھی کافی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے بھی کسانوں کی اس تحریک کی کھل کر حمایت کی اور لڑائی لڑی۔ ایک سال بعد گرو نانک کے پرکاش پرو کے تاریخی دن مودی حکومت نے ان کالے زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ دگ وجئے سنگھ نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے لکھاکہ شکریہ مودی جی۔ دیر سے آئے درست آئے۔ جیت گیابھائی،جیت گیا کسان آندولن جیت گیا۔
سابق وزیر زراعت سچن یادو نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ زراعت ایکٹ کو واپس لینے کا فیصلہ کسانوں کی جدوجہد کی جیت ہے۔ کسانوں پر بھی دہشت گرد کا لیبل لگا دیا گیا، حکومت کسانوں کی توہین پر معافی مانگے۔ یادو نے کہا کہ جب تک اسمبلی میں قانون واپس نہیں ہوگا تحریک جاری رہے گی۔