مودی نے ان داتا کے ساتھ کیا گیا جرم قبول کیا، عوامی معافی مانگی: کانگریس


نئی دہلی، 29 نومبر: کانگریس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ایک برس سے تحریک چلا رہے کسانوں کے ساتھ جو ناانصافی کی ہے اسے انہوں نے آج کو قبول کر لیا ہے اور اب مسٹر مودی کو ملک کے ان داتا سے اس جرم کے لئے عوامی طور پر معافی مانگی چاہیے۔
کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک کے کسان زراعت مخالف تین قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرنے کے لیے گزشتہ سال 26 نومبر سے احتجاج کر رہے ہیں، لیکن حکومت نے ضد اور غرورکا موقف اختیار کرتے ہوئے ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی اور ان کی تحریک کو غیر حساس طریقے سے دبانے کی کوشش کی۔
انہوں نے اسے سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کے دوران 700 سے زائد کسانوں نے اپنی شہادتیں دیں، کسانوں پر تشدد کیا گیا، لاٹھی چارج کیا گیا اور انہیں دہشت گرد، انتہا پسند اور مشتعل کہہ کر بے عزت کیا گیا اور کئی بار مظاہرین کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ مسٹر مودی نے آج اس وقت کسانوں کے ساتھ انصاف کیا ہے جب تحریک کے دوران ان کے ساتھ بربریت کی تمام حدیں پار کر دیں گئیں اورانہیں ہراساں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کو انصاف دینے کی یہ کوشش ایسے ہی ہے جیسے کسی شخص کو پہلے اذیت دی جائے اور جب اس کی سانس اکھڑنے کی حالت میں ہو تو پھر کہا جائےکہ اسے زندگی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام اب سمجھ چکے ہیں کہ بی جے پی کسان مخالف ہے اور بی جے پی حکومت جانے سے ہی ملک میں خوشی اور خوشحالی آسکتی ہے۔