مادھو کالج میں فن اور لوک فن پر ہوالیکچر:


لوک فن سے بھی روزگار حاصل کیا جا سکتا ہے: لوک فنکار شیاما دیوی
اُجین18نومبر(نیا نظریہ بیورو)آزادی کے امرت مہوتسو کے تحت مادھو کالج میں ملک کے ثقافتی ورثے کو سنبھالنے والے فنکاروں کے لیکچرز کا انعقاد کیا گیا۔نامور مصور ڈاکٹر الپنا اپادھیائے نے بتایا کہ لوک فن میں سادگی کے ساتھ خوشی کا احساس بھی ہوتا ہے۔اس میں کلاسیکل کے بجائے دلکشی ہوتی ہے جو ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں زیادہ موثر ہوتی ہے۔مشہور لوک فنکار شیامادیوی نے اپنی زندگی کا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ لوک فن سے بھی روزگار حاصل کیا جا سکتا ہے۔ایک ان پڑھ آدمی بھی لوک فن کی مشق کے ذریعے مقبولیت اور خوشحالی حاصل کر سکتا ہے۔صدارتی خطاب کرتے ہوئے پرنسپل ڈاکٹر جواہر لال برمیہ نے کہا کہ لوک فنون ہندوستانی ثقافت کی پہچان ہیں۔لوک فنون ذہنی اور روحانی تسکین کے حامل ہیں۔آج اپنے کالج میںلوک فنکار کی آمد سے ہم بہت خوش ہیں۔آغاز میں مہمانوں کا تعارف ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ آف فلسفہ اور پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شوبھا مشرانے کیا۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر ظفر محمود نے بحسن خوبی انجام دی ۔نیز اظہار تشکر ڈاکٹر ہری سنگھ کشواہا نے کیا۔