اُجین میں شروع ہوا گدھوں کا میلہ


اُجین18نومبر(نیا نظریہ بیورو)ملک بھر میں مشہور اُجین کا گدھوں کا میلہ کارتک میلہ گراو ¿نڈ کے قریب لگا ہے۔ کارتک پورنیما پر منعقد ہونے والے اس میلے میں سیکڑوں گدھے فروخت ہونے آئے ہیں۔ میلے میں سب سے زیادہ بحث کا موضوع کنگنا اور آریان نامی گدھوں کی جوڑی تھی۔ اس جوڑے کو ہاتھوں ہاتھ ایک تاجر نے 34 ہزار روپے میں خریدبھی لیا۔
شپرا ندی کے کنارے بڑھ نگر روڈ پر سو سے زیادہ گدھے اور گھوڑے فروخت ہونے کے لئے آچکے ہیں۔ جمعرات کو کنگنا آریان کی جوڑی کے علاوہ ویکسین نامی گدھا بھی فروخت ہونے آیا۔ اس کا سودا 14 ہزار روپے میں ہوا۔
میلے کے سرپرست ہری اوم پرجاپتی نے کہا کہ رجحان میں چلنے والی خبروں اور لوگوں کے نام پر گدھوں کے نام رکھنے کی وجہ سے ان کا سودا جلدی ہو جاتا ہے۔ پرجاپتی نے بتایا کہ لوگوں کو ویکسین لگانے کی ترغیب دینے کے لیے ہم نے ایک گدھے کا نام ویکسین رکھا ہے۔
گدھوں کے میلے میں گھوڑے بھی بکنے آئے۔ اس میں سب سے مہنگی گھوڑی بھوری کی قیمت 2 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ بادل نام کے گھوڑے کو ڈیڑھ لاکھ سے کم میں نہیں بیچیں گے۔
گدھوں کے تاجر کمل پرجاپت کا کہنا ہے کہ اس بار بھی گدھوں کے میلے میں کوئی جوش و خروش نہیں تھا جس کی وجہ سے کاروبار نہیں ہو سکا۔ پہلے گدھوں کو آمدورفت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس میں بھی تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کے لیے صرف مال بردار نقل و حمل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر اینٹوں کے بھٹوں پر بھی یہ کام کیا جاتا ہے۔ ورنہ آج کل گاڑیاں زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔
گدھوں کے ڈیلر اس بار راجستھان اور مہاراشٹر کے کچھ علاقوں سے آئے ہیں، سوسنیر، شاجاپور، جیرا پور، بھوپال، مکسی، سارنگ پور کے علاوہ۔ پرجاپتی نے کہا کہ اس بار کورونا کا خوف کم نہیں ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے رہنما خطوط بھی واضح طور پر نہیں بتائے تھے۔ جس کی وجہ سے اس بار گدھوں کے تاجر بہت کم تعداد میں آئے۔