اساتذہ کے امتحان کےخلاف کھولا محاذ:


پہلے وزیر کے اسٹاف اور دیگر دفاتر کے افسران کا امتحان لیا جائے:گورنمنٹ ٹیچرس آرگنائزیشن
بھوپال18نومبر(نیا نظریہ بیورو)مدھیہ پردیش کے سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والوں نے حکومت اور محکمہ کے افسران کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ اساتذہ نے کہا کہ ہر بار امتحان صرف اساتذہ ہی کیوں دے؟ ملائی دار عہدوں کا امتحان کیوں نہیں ہوگا۔ بدھ کی رات ہوئی مدھیہ پردیش گورنمنٹ ٹیچرس آرگنائزیشن کی میٹنگ میں سی ایم رائز اسکول کے نام پر اساتذہ کے امتحان کی مخالفت کی گئی۔ اس کے بعد تنظیم کے عہدیداروں نے مطالبات کے حوالے سے وزیر اسکول ایجوکیشن کو ایک خط بھی سونپا۔
تنظیم کے ریاستی صدر اوپیندر کوشل نے کہا کہ تعلیم میں معیار کے لیے نت نئے تجربات اور اختراعات کے نام پر منصوبے بنا کر محکمہ تعلیم اساتذہ کو پریشان کر رہا ہے۔ پہلے ماڈل اسکول، ایکسی لینس اسکول اور پھر دیگر سکیمیں متعارف کرائی گئیں۔ اساتذہ کا امتحان لینے کے بعد انہیں ان اسکولوں میں تعینات کیا گیا۔
محکمہ تعلیم کی مذکورہ اسکیم ناکام ہوئی تو ایک بار پھر سی ایم رائز اسکول کے نام پر تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے نام پر اساتذہ کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔اساتذہ کو بار بار امتحان سے کیوں گزرنا پڑتا ہے، جب کہ محکمہ کے دیگر ملائی دار عہدوں جیسے منسٹریل اسٹاف، پبلک ایجوکیشن، اسٹیٹ ایجوکیشن سینٹر، سنسکرت انسٹی ٹیوٹ، اسٹیٹ اوپن، بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن، ڈی ای او، ڈی پی سی، بی آر سی وغیرہ میں کیوں افسران اور ملازمین کو امتحان کے ذریعے تعینات نہیں کیا جاتا؟۔
امتحانات کے ذریعے اساتذہ کی تعیناتی سے ہی تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی۔ جو ملائی دار عہدوں پر سفارش اور لین دین کر کے تعینات ہوتے ہیں۔ وہ محکمہ تعلیم کے منصوبوں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری ہے۔ امتحان کے ذریعے ان کی پوسٹنگ ضروری ہے اساتذہ کی نہیں۔کوشل نے کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم اندر سنگھ پرمار سے تعلیم کو معیاری بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کے لیے محکمہ تعلیم میں تمام افسران و عملہ کی پوسٹنگ کا امتحان لیا جائے بصورت دیگر امتحان کے ذریعے اساتذہ کی تعیناتی کا حکم منسوخ کر کے بچوں کی تشخیص، تربیت، تجربے یا امتحانی نتائج کی بنیاد پر کیا جائے۔