پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد اللہ کو جلگائوں جامودمیں سپرد خاک کردیا گیا


کھام گاوں (نامہ نگار)خطہ برار کی مشہور و معروف شخصیت، ادیب، نقاد، استاد الااساتذہ، وظیفہ یاب پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد اللہ صاحب جلگاوں جامود ضلع بلڈانہ کا ۱۷؍نومبر ۲۰۲۱کو انتقال ہوگیا۔ موصوف کی عمر انتقال کے وقت ۹۲؍ برس کی تھی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد اللہ کی نماز جنازہ ۱۸؍ نومبر بروز جمعرات کو جلگاوں جامود کے مسجد میں ادا کی گئی اوردوپہر 12 بجے کے قریب مقامی قبرستان میں سپر خاک کیا گیا۔ ان کے جنازہ میں بلڈانہ ضلع اور اطراف کے شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں ان کے چاہنے والے اساتذہ، شاگرد، سیاسی، دینی، علمی، اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
سعد جلگانوی کا پورا نام ڈاکٹر محمد سعدا للہ ہے۔ ۱۹۲۹ء کو جلگائوں جامود ضلع بلڈانہ میں پیداہوئے۔ ابتدائی تعلیم وطن میں ہوئی اس کے بعد پی۔ٹی۔سی کا امتحان نارمل اسکول امرائوتی سے پاس کیا۔ بی اے اور ایم اے(اردو،فارسی)ناگپور یونیورسٹی سے دوران ملازمت خانگی طور پر پاس کیا۔ ابتدئی میں جلگائوں میونسپل کمیٹی اردو مڈل اسکول میں ٹیچر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ ربانی امیریہ اردو ہائی اسکول ملکاپور میں ہائی اسکول پرتدریس کے فرائض انجام دئے۔ جب جلگائوں جامود میں نیوایرا ہائی اسکول میں ہائی اسکول کی ابتداء ہوئی تو وہاں پر اپنی خدمات فراہم کیں اور وہیں سے ترقی پاکر ۔ ایس کے کے کالج جلگاوں جامود میں اردو کے لیکچرارمقرر ہوئے۔ اور ۱۹۸۹ء میں بطور ریڈر اسی ادارے سے سبکدوش ہوئے۔
دوران ملازمت ڈاکٹر صاحب مختلف یونیورسٹیوں میں بحیثیت رکن اکزامنر اور گائیڈ اپنی تعلیمی خدمات انجام دی اور امراوتی یونیورسٹی کے بورڈ آف اسٹیڈیز کے چیئرمین کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ جہاں تک ادبی خدمات کا تعلق ہے آپ گزشتہ نصف صدی سے تحقیقی،تعلیمی اور ادبی مضامین لکھ رہے ہیں۔ جو ملک کے مقتدر رسائل میں شائع ہوئے ہیں۔ آپ نے ملک کے مشہور ادبی اور تعلیمی مراکز میں سیمیناروں اور کانفرنسوں میں شرکت کی ہے اور اپنے مقالات بھی پیش کئے ہیں۔
آپ کے پی ایچ ڈی کا مقالہ ”شہر آشوب ”1985 میں شائع ہوچکا ہے۔ آپ کا ایک اور وقیع کارنامہ ”مراٹھی اردو لغت” کا مرتب کرنا ہے جو ابھی اشاعت کا منتظر ہے۔ اس کے علاوہ آپ نصابی کتب کی اشاعت کے صوبائی بورڈ یووک بھارتی پونے اور امراوتی یونیورسٹی کی نصابی کتب کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر بھی رہے ہیں۔
آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے وطن جلگاوں میں ”سعد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ” قائم کیا ہے۔ اور برائے استفادہ ریسرچ اسکالر ایک لائبریری بھی قائم کی ہے۔ جس میں کتب و رسائل کی تعداد تقریبا بیس ہزار ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے تحت ادبی اور تحقیقی کام انجام پاتے ہیں۔ اور ڈاکٹر سعد اللہ کی رہنمائی کے فرائض اب تک انجام دیتے آئے ہیں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالوں کی رہنمائی اور رہبری کے لیے سیکڑوں طلباء ان سے مستفیض ہوئے ہیں۔ اور ہورہے تھے۔ ان کی نگرانی میں ایک بڑی تعداد نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ (صدر شعبہ اردو،جی ایس سائنس، آرٹس اینڈ کامرس کالج کھام گاوں ضلع بلڈانہ نے پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد اللہ کے انتقال پر رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ پروفیسر محمد سعد اللہ ایک شاندار مدرّس، محقق، ادیب، نقاد، استاد الااساتذہ،تھے۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ یہ ان کا ذاتی خسارہ ہے۔ انھوں نیبرار میں اردو تحقیق اور ادب کے لیے جو بیش قیمتی خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کے جانے سے اردو کا جو خسارہ ہوا ہے اس کی تلافی ناممکن ہے۔
سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر ڈاکٹر محمد طالب دیشمکھ نے کہا کہ اردو ریسرچ میں پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد اللہ نے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں اور ان کے سیکڑوں شاگرد اردو زبان اور ادب کے کالجوں اور اسکولوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کی پیاری شخصیت اور گراں قدر خدمات کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ ان کی خوبیوں کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یادوں کی ایک کہکشاں ضرور میرے ذہن و دماغ میں ہے۔ احساسات کا روشن چراغ بھی ہے لیکن بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ ان جیسی شخصیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ان کا اس طرح چلے جانا اردو ادب کا بہت بڑا خسارہ ہے۔ اور استاد سے محرومی نے زبردست مایوسی کا عالم پیدا کردیا ہے۔
سابق پرنسپل ڈاکٹر محمد اظہر حیات نے کہا وسط ہند میں اردو زبان و ادب کی عظیم شخصیت ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہوگء۔ مرحوم منکسر المزاج اور باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی رحلت سے دنیائے علم و ادب افسردہ اور سوگوار ہے۔ اللہ غریق رحمت فرمائے اور آپ کے بےشمار شاگرد اور متعلقین و لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے۔ آمین