بند پڑے محلہ کلینک کی وجہ سے مریض ہو رہے پریشان

بند پڑے محلہ کلینک کی وجہ سے مریض ہو رہے پریشان
دیواس 12اپریل (نیا نظریہ بیورو)کیاعام کیا خاص، کیا غریب کیا امیر، کیا لیڈر کیا عوام، کیا افسر کیا ملازم، کورونا نے ایسی دہشت کا ماحول بنا دیا ہے کہ سب سے زیادہ لوگ دہشت اور ڈپریشن کی وجہ سے ہی بیمار ہو رہے ہیں اور چھوٹی -موٹی بیماریوں کو دیکھنے والا بھی کوئی نہیں ہے اور انتظامیہ اس مسئلہ پر خاموش ہے۔ ان دنوں سرکاری اسپتال سے متعلق ڈاکٹر جس تندہی سے اور خدمت خلق سے اپنے اپنے علاقے میں کام کر رہے ہیں ٹھیک اس کے برعکس پرائیویٹ کلینک بڑے ہاسپٹل لاک ڈا¶ن کا پورہ ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں جس کی وجہ سے مریض پریشان ہو رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب کورونا نے ہمارے شہر کو بھی نہیں بخشا ہے ہر روزانہ اس کی آہٹ بڑھ رہی ہے ساتھ ساتھ کئی دیگر بیماریوں سے پریشان مریض محلہ کلینک پر پہنچ کر علاج کرانے کی چاہ میں وہاں تک پہنچ رہے ہیں مگر بہت سے ڈاکٹر اپنے مذہب اپنے فرض سے منہ موڑتے ہوئے ان مریضوں کو بھگا رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ چھوٹی موٹی بیماریوں میں مبتلا مریض بھی پریشان ہو رہے ہیں اور آنسو بہا رہے ہیں مگر انتظامیہ کو شاید ان کے آنسو نظر نہیں آ رہے ہیں۔ النکار با زار توس گلی میں واقع الیکٹرانکس دکان کے مالک امین بھائی نے ہمیں بتایا کہ گزشتہ 10 دنوں سے سردی ، کھانسی اور بخار سے پریشان تھے۔ دیواس کے جانے مانے ایم ڈی ڈاکٹرکو دکھانے کے بعد فرق نہیں پڑا تو میں نے موتی بنگلہ واقع بڑے نرسنگ ہوم کے بڑے ڈاکٹر کو دکھایا انہوں نے علاج کرتے ہوئے مجھ سے دو گنا فیس وصو لی اور ہاتھ بھی نہیں لگایا میں نے اپنی غربت کی دہائی دی اور گڑگڑایا مگر انہوں نے مجھے روانہ کر دیا۔ تقریبا ًیہی حالات ان دنوں عام اور خاص کے ہیں۔انتظامیہ کو محلوں میں واقع دواخانوں کے پریکٹیشنرز کو اپنی اوپی ڈی شروع کر اس طرح کے مریضوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کا حکم دیتے ہوئے صحت کی خدمات کو آسان کرنا چاہئے ورنہ دیواس میں بھی صحت کی حالت دن بدن بدتر ہوتی جائے گی اور اس کی ذمہ داری صرف اور صرف انتظامیہ کی ہو گی ۔