ہریانہ اب دوسری ریاستوں کے لیے بنا تحریک کا ذریعہ: منوہر لال


نئی دہلی، 18 نومبر: ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال نے کہا ہے کہ جب ہریانہ کو علیحدہ ریاست بنایا گیا تھا، اس وقت ریاست کی معاشی حالت بہت خراب تھی اور دوسری ریاستوں کے لوگوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ الگ ریاست کی تشکیل تو کرلی ہے لیکن یہاں کی حکومت اپنے ملازمین اور دیگر محکموں کو تنخواہیں دے سکے گی؟ لیکن یہاں کے لوگوں نے محنت سے نہ صرف ریاست کا نام روشن کیا ہے بلکہ آج ریاست دوسری ریاستوں کے لیے تحریک کا ذریعہ بن چکی ہے۔
جمعرات کو یہاں پرگتی میدان میں ہریانہ پویلین کا دورہ کرنے کے بعد اپنے خطاب میں مسٹر لال نے کہا کہ ہریانہ یکم نومبر 1966 کو ایک الگ ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا اور اس وقت اس کی معاشی حالت بہت خراب تھی، نہ یہاں کوئی صنعت و کاروبار تھے اور کوئی انفراسٹرکچر بھی نہیں تھا۔
ریاست پانی اور اناج کے لیے بھی ترستی تھی لیکن یہاں کے محنت کش لوگوں نے ریاست کو ترقی دینے میں مدد کی اور آج یہ ریاست ترقی کے نئے ریکارڈ بنا رہی ہے۔