ہندوستان کا بینکنگ سیکٹر مضبوط ہوا، بینکوں کو قومی اہداف کے لیے کام کرنا چاہیے: مودی


نئی دہلی، 18 نومبر: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ حکومت نے 2014 سے پہلے بینکوں کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کو حل کردیاہے اور اب ملک کا بینکنگ سیکٹر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنیاد پر ہے اور اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جانے لگاہے۔
مودی نے کہا کہ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کی وجہ سے آج بینکوں کے لیے کام کرنے کا بہت اچھا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اور اسٹارٹ اپ جس رفتار سے ترقی کر رہے ہیں وہ بے مثال ہے۔ لوگوں کی امنگوں کو تقویت دینے کے لیے اس سے بہتر وقت نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہاکہ آپ انہیں پیسے دیں، ان میں سرمایہ کاری کریں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ان لوگوں سے 5 لاکھ کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں جنہوں نے بینکوں کو لاکھوں کروڑوں کا نقصان پہنچایا ہے۔ بینکوں کے این پی اے (غیر فعال سرمایہ) کی سطح پانچ سال کی کم ترین سطح پر ہے اور آج ان کے پاس معاشیات کے قرض کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی سرمایہ موجود ہے۔
انہوں نے بینک حکام پر زور دیا کہ وہ اپنے قرض کے لیے درخواست دینے والے شخص کے ساتھ ایک وکیل کی طرح سلوک نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ شراکت دار کے جذبے سے کام کریں۔
وزیر اعظم یہاں دو روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع ’بلا تعطل کریڈٹ فلو اور اقتصادی ترقی کے لیے ہم آہنگی پیدا کرنا‘ تھا۔ وزارت خزانہ کے شعبہ مالیاتی خدمات کے زیر اہتمام کانفرنس میں مختلف وزارتوں، بینکوں، مالیاتی اداروں اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن بھی موجود تھیں۔ سیتا رمن نے کل انڈسٹری ادارہ سی آئی آئی کی میٹنگ میں کہا تھا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں پبلک سیکٹر کے بینکوں کا کمایا ہوا منافع پچھلے مالی سال کے مکمل منافع کے تقریباً برابر ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا تھا کہ سرکاری بینک اب اضافی سرمایہ کے لیے حکومت سے رجوع نہیں کر رہے ہیں اور بینکوں نے مارکیٹ سے 10,000 کروڑ روپے کا سرمایہ اکٹھا کیا ہے۔
مودی نے کہاکہگزشتہ چھ سات سالوں میں حکومت کی طرف سے کی گئی پالیسی اصلاحات کی وجہ سے ہندوستان کا بینکنگ سیکٹر آج مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے۔
انہوں نے کہاکہہم نے 2014 سے پہلے ملک کے بینکنگ سیکٹر کو درپیش تمام مسائل اور چیلنجز کا حل تلاش کر لیا ہے۔ ہم نے بینکوں میں این پی اے کا مسئلہ حل کیا ہے، بینکوں میں تازہ سرمایہ لگایا ہے اور ان کی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔
مودی نے کہا کہ بینک جس طرح کی اصلاحات ان کی حکومت سے چاہتے تھے، وہ ہو چکے ہیں۔ ہم مستقبل میں بھی بہتری لاتے رہیں گے۔ اب آپ قومی اہداف کے حصول کے عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بینک اب مالی طور پر محفوظ ہوگئے ہیں، انہیں اب دیہی علاقوں کے لوگوں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے بینک سے قرض لے کر اسے ارادتاً ادائیگی نہیں کرنے والوں کے ساتھ سختی سے وصولی کے اچھے نتائج کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں جب کوئی بینک کا پیسہ لے کر فرار ہو جاتا ہے تو ہر کوئی اس پر بحث کرتا ہے لیکن جب کوئی مضبوط حکومت اس رقم کو واپس لاتی ہے تو کوئی اس پر بحث نہیں کرے گا۔
مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کے دور میں بینکوں کے لاکھوں کروڑوں روپے پھنسے ہوئے تھے، جن میں سے اب تک پانچ لاکھ کروڑ سے زیادہ کی وصولی ہو چکی ہے۔
انہوں نے بینک حکام کو مشورہ دیا کہ وہ قرض کے درخواست دہندگان کے ساتھ شراکت دار ذہنیت کے ساتھ کام کریں۔بینک افسران کو قرض کے خواہش مندوں کو درخواست گزار اورخود کو منظور کنندگان سمجھنے کی ذہنیت سے باہر نکل کر ان کے ساتھ شراکت دار کے طور پر کام کرنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے کافی نقدی دستیاب ہے۔ ان کے پاس این پی اے کے نقصان کی تلافیکے معاملے میں کوئی واجبات نہیں ہیں۔ بینکوں کے این پی اے پانچ سالوں میں کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔
وبائی مرض کے باوجودموجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ہندوستانی بینکوں کی ایک مستحکم رپورٹ نے دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ عالمی درجہ بندی ایجنسیوں نے ہندوستان کے بینکنگ سیکٹر کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن ریاستوں میں جن دھن بینک اکاو¿نٹس زیادہ ہیں وہاں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔
مودی نے کہا کہ کمپنیاں اور اسٹارٹ اپ جس رفتار سے ترقی کر رہے ہیں وہ بے مثال ہے، لوگوں کی امنگوں کو تقویت دینے کے لیے اس سے بہتر وقت نہیں ہو سکتا۔ آپ ان کو پیسے دیں، ان میں سرمایہ کاری کریں۔
مودی نے کہا کہ ہمارے ملک میں زرعی شعبے میں کارپوریٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری تقریباً صفر ہے جب کہ فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں زیادہ امکانات ہیں اور بہت بڑی مارکیٹ بھی ہے۔