رشید قدوائی کی کتاب ’بھارت کے پردھان منتری دیش، دَشااور دِشا‘ :


رسم اجراءکے پروگرام میں سابق وزیر اعلیٰ دگوجئے سنگھ سمیت مختلف دانشوروں نے کیا اظہار خیال
بھوپال17نومبر(نیا نظریہ بیورو)بھوپال کے انڈین کافی ہاﺅس میں ممتاز صحافی و ادیب رشید قدوائی کی کتاب بھارت کے پردھان منتری دیش، دشااور دشا پر بھوپال میں مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ منعقدہ مذاکرہ میں اردو،ہندی اور انگریزی زبان کے ممتاز ادیبوں نے شرکت کی ۔تمام نے اس کتاب کو ہندوستان کی سیاست کا تاریخی دستاویز بتایا۔اس کتاب میں مصنف نے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہرلال نہرو سے لے کر اب تک وزیر اعظم بننے والوں کے زمانے اور ان کے کاموں کو انتہائی سلیس انداز میں پیش کیا گیا ہے۔مصنف کتاب نے کہا کہ بھارت میں آزادی کے بعد جتنے بھی وزیر اعظم ہوئے ہیں ان کی اپنی شخصیت رہی ہے۔ انہوں نے اپنے عہد میں ملک کہ ہمہ جہت ترقی کے لئے کام کیا ہے لیکن آج ہم ایک ایسے عہد میں ہیں جسے ہم وہاٹس اپ یونیورسٹی کے عہد سے تعبیر کرتے ہیں ۔جہاں پر بہت ساری غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں اور یہ غلط فہمیاں کہیں شعوری طور پر تو کہیں پر لا شعوری طور پر کی جاتی ہیں۔میں اس کتاب میں بھارت میں اب تک جتنے بھی وزیر اعظم ہوئے ہیں ان کے عہد کے کارناموں کو دستاویزی شکل میں پیش کیا گیا ہے نیز یہ بھی پیش کیا گیاہے کہ وہ حساس مسائل جیسے کشمیر اور گو ¿ کشی کے معاملے میں ان کی اپنی رائے کیا تھی اور انہوں نے ان حساس مسائل کو کس طرح حل کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوںنے مزید کہا کہ اس کتاب کو تحریر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب میں نے دیکھا کہ آج کے عہد میں جب لوگ کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا جسے انہوں نے سب کچھ مان لیا ہے اور وہاں پر بہت سی غلط فہمیاں جان بوجھ کر پیدا کی جا رہی ہیں اور ایک طرح کا زہر سماج میں پھیلا جا رہا ہے اور ان کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ پہلے جو وزیراعظم ہوئے ہیں وہ نااہل تھے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں انکا کوئی کردار نہیں تھا اور انہوں نے حساس مسائل چاہے وہ چین کا معاملہ ہو،پاکستان کا معاملہ ہو ،کشمیر کا معاملہ ہو ان کو لیکر وہ بیدار نہیں تھے ۔ انہوں نے اپنے عمل سے سماج اور ملک کو کمزرو کیا ہے۔اس لئے میرا ماننا یہ ہے کہ ملک کے جتنے بھی وزیر اعظم ہوئے ہیں ان کی پارٹی کوئی بھی رہی ہوملک کی تعمیر وترقی اور سرحدوں کی حفاطت کے لئے وہ صد فیصد وفادار رہے ہیں۔
رشید قدوائی کی کتاب پر ممتاز ادیب رام پرکاش ترپاٹھی،منوج شریواستو ،لجا شنکر ہردنیا،راجیش جوشی،سریش پچوری،راکیش دوبے،بادل سروج،چندر کانت نائیڈو،راجیش بادل اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجئے سنگھ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مصنف کتاب کو مبارکباد پیش کی۔