آئندہ 25 سال ملک کے قانون ساز ایوانوں میں صرف ’فرض‘ کا منترگونجے :مودی


شملہ 17 نومبر: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج پارلیمنٹ اور ملک کے پریزائیڈنگ افسران سے مطالبہ کیا کہ آزادی کے امرت دورمیں آئندہ 25 برسوں تک ایوانوں میں بار بار ‘فرض’ کے منتر پرزوردیں اور قانون ساز اداروں کے ایوانوں میں معیاری بحث ومباحثہ کے لئے الگ سے وقت مختص کریں جس میں وقار، سنجیدگی اور نظم و ضبط ہو اور اس سے صحت مند جمہوریت کی راہ ہموار ہو۔
مسٹرمودی نے آج یہاں پارلیمنٹ اور قانون ساز اداروں کے آل انڈیا پریذائیڈنگ افسران کی صد سالہ کا نفرنس کا نئی ​​دہلی سے ویڈیو لنک کے ذریعےافتتاح کیا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی صدارت میں 82 ویں پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس کا انعقادیہاں 16، 17 اور 18 نومبر کو کیا جا رہا ہے۔ ملک کے پریزائیڈنگ آفیسرز کی کانفرنس کی شروعات 1921 میں ہوئی تھی اور پہلی کانفرنس شملہ میں منعقد ہوئی۔ اسی لیے صد سالہ کانفرنس کا انعقاد شملہ میں کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس میں مسٹر برلا کے ساتھ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش، ہماچل پردیش کے وزیر اعلی جئے رام ٹھاکر، اسمبلی اسپیکر وپن سنگھ پرمار، قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مکیش اگنی ہوتری نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں ملک کی تمام ریاستوں کے پریزائیڈنگ افسران نے شرکت کی۔
مسٹرمودی نے اپنے خطاب میں ایوان میں نئے کام کاج کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو شیئر کرتے ہوئے کہا، “ہمارے ایوان کی روایات اور نظام فطرت کے لحاظ سے ہندوستانی ہونے چاہئیں، ہماری پالیسیاں، ہمارے قوانین ہندوستانیت کی روح، ‘ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’ کے عزم کو مضبوط کرنے والے ہوں۔ سب سے اہم ایوان میں ہمارا خود کا بھی طرز عمل ہندوستانی اقدار کے مطابق ہونا چاہیے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔