پانچ ریاستوں کے44 پسماندہ اضلاع میں موبائل ٹاور، 4 جی کے لیے 6766 کروڑروپےکا منصوبہ


نئی دہلی، 17 نومبر: حکومت نے پانچ ریاستوں میں ٹیلی کام نیٹ ورک اور سڑک رابطے سے محروم 44 اضلاع کے 7287 پسماندہ اور قبائلی دیہاتوں میں 4 جی نیٹ ورک کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے 6466 کروڑ روپے کے منصوبے کو منظوری دی۔
وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں یہاں ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں لیے گئے اس فیصلے کی معلومات فراہم کرتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ان گاؤں میں ٹیلی کام ٹاوروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لئے آپریٹنگ اخراجات کا التزام بھی شامل ہے۔
اس منصوبے میں جن پانچ ریاستوں کے خواہشمند اضلاع کو فائدہ ہو گا، ان میں آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مہاراشٹر اور اڈیشہ شامل ہیں ۔
مسٹرٹھاکر نے بتایا کہ یہ رقم محکمہ مواصلات کے یونیورسل سروس اوبلیگیشن فنڈ ’یو ایس او فنڈ‘ سے فراہم کی جائے گی ۔ یہ فنڈ پرائیویٹ سیکٹر کی مواصلاتی کمپنیوں سے خصوصی چارجز کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا ہے جو ہر علاقے میں نیٹ ورک کی توسیع کی ذمہ داری کو براہ راست پورا کرنے کے قابل نہیں ہو تی ہیں ۔ ٹھیکہ چھوڑ جانے کے بعد اس منصونے کو 18 ماہ میں پورا کیا جائے گا ۔ اس کے لیے مسابقتی بنیادوں پر ٹینڈرز طلب کیے جائیں گے۔
وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ کابینہ کے اس فیصلے سے ایسے قبائلی دیہاتوں کو فائدہ پہنچے گا ، جہاں ابھی تک سڑک یا ٹیلی کمیونیکیشن کی سہولت تک رسائی نہیں ہے اور جو جنگلات سے گھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ ورک کی توسیع سے یہ گاؤں فون کے ساتھ ساتھ ای گورننس کی سہولت سے بھی مستفید ہوں گے۔ حکومت نے یہ فیصلہ قبائلی رہنما اور مجاہد آزادی برسا منڈا کے یوم پیدائش کو’ جن جاتیہ گورو دوس‘ کے طور پر منانے کے فیصلے کے فوراً بعد لیا ہے۔