اندور میں منگل کے روز ملے ڈینگو کے 19نئے مریض


اندور16نومبر (نیا نظریہ بیورو)شہر میں جہاں ساڑھے چار ماہ بعد کورونا سے ایک ہلاکت نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے وہیں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں کمی نہیں آ رہی ہے۔ منگل کو 19 نئے مریض پائے گئے ہیں۔ ان سمیت ڈینگو کے مریضوں کی کل تعداد 941 ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ اب فعال مریضوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جبکہ 11 مریض داخل ہیں۔ محکمہ صحت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں، احاطوں اور اردگرد گندا پانی جمع نہ ہونے دیں۔
جن نئے علاقوں میں ڈینگو کے مریض پائے گئے ہیں ان میں رانی باغ، وجے نگر، تلوالی چندا، تروپتی کالونی، وینکٹیش نگر، سبھاش نگر، سکھ دیو نگر، بی سی ایم پیراڈائز، پیلس کالونی، بی این سیکٹر سٹی، سادھو واسوانی نگر، کرشنا ایونیو، کالانی نگر ، حسن جی نگر، کھنڈوا روڈ، انورادھا نگر، سوستھیا نگر، وسودھم کالونی وغیرہ ہیں۔ ان مقامات پر محکمہ صحت اور میونسپل کارپوریشن کی ٹیموں نے لاروا کے نمونے لے کر سپرے کیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ملیریا آفیسر ڈاکٹر دولت پٹیل نے بتایا کہ ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ گھروں میں یا ایک ہی جگہ کے آس پاس طویل عرصے تک پانی جمع ہو سکتا ہے۔ جیسے کولر، واش ایریاز، سنک، گملوں وغیرہ میں پانی کئی بار جمع رہتا ہے جو ڈینگو کا سبب بنتا ہے۔ ویسے بارش میں ڈینگو کے مریض مزید بڑھ جاتے ہیں۔ جیسے جیسے سردی بڑھے گی اس کا اثر بڑھے گا اور مچھروں کی سرگرمیاں بہت کم ہوں گی جس سے ڈینگو کے مریضوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی کو کھڑا نہ ہونے دیں اور انخلائ کے انتظامات کریں۔ پانی جمع ہونے کی صورت میں ایڈیس مچھر متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان مچھروں کی فطرت یہ ہے کہ یہ دن میں کاٹتے ہیں۔ کچھ دیر بعد جو لوگ اس سے متاثر ہوئے ان کو تیز بخار، جسم پر سرخ دانے، سر، ہاتھ پاو ¿ں اور جسم میں شدید درد، بھوک نہ لگنا، قے، اسہال، گلے کی سوزش، پیٹ میں درد اور جگر میں سوجن وغیرہ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں متعلقہ شخص کو فوری طور پر ڈاکٹروں کو دکھانا چاہیے۔ اس کے بعد اس کا بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اسے ڈینگو یا کوئی اور بیماری ہے۔