شیوارج کابینہ کی میٹنگ:


ہوائی جہاز کے ایندھن پر ویٹ کو 25 سے گھٹا کر 4 فیصد کرنے سمیت لئے مختلف فیصلے
بھوپال16نومبر(نیا نظریہ بیورو)پٹرول اور ڈیزل پر عوام کو راحت دینے کے بعد اب مدھیہ پردیش حکومت نے ایئر لائنز کو بھی بڑی راحت دی ہے۔ بھوپال اور اندور میں ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر ویٹ یعنی ہوائی جہاز کے ایندھن کو 25 سے کم کر کے 4 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ شیوراج کی کابینہ نے 16 نومبر کو لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مُکھیہ منتری اُدیمی کرانتی یوجنا کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس کا اعلان وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے یکم نومبر کو ایم پی کے یوم تاسیس کے موقع پر کیا تھا۔
کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے وزیر طبی تعلیم وشواس سارنگ نے کہا کہ دونوں شہروں کے علاوہ دیگر ہوائی اڈوں پر اے ٹی ایف بھرنے پر 4فیصد ویٹ لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے فیصلے سے ریاست میں پروازوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ کرایہ بھی کم ہونے کی امید ہے۔ وزارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طیاروں کے ایندھن پر ویٹ کم کرنے سے حکومت کو سالانہ 40 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا تاہم پروازوں کی تعداد بڑھنے کی صورت میں ایندھن کے استعمال میں اضافے سے نقصان کی تلافی متوقع ہے۔
مدھیہ پردیش میں فی ہفتہ 588 پروازیں ہیں۔ مرکزی شہری ہوابازی وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے ریاستی حکومت سے مدھیہ پردیش میں مزید پروازیں شروع کرنے اور ہوائی جہاز کے ایندھن پر ویٹ کو کم کرنے پر زور دیا تھا تاکہ ریاست میں ہوائی رابطہ بہتر ہو۔ انہوں نے نئی دہلی سے انڈیگو ایئر لائنز کی گوالیار-اندور پرواز کے آغاز اور یکم ستمبر کو اندور-دبئی پرواز کے دوبارہ شروع ہونے کی تقریبات سے خطاب کیا تھا۔
سندھیا نے کہا تھا کہ میں نے اے ٹی ایف (ہوائی جہاز کے ایندھن) پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کو کم کرنے کے لیے ملک کے تمام وزرائے اعلیٰ کو خط لکھا ہے۔ 8-9 ریاستیں ہیں جہاں اے ٹی ایف پر ویٹ ایک سے چار فیصد تک ہے۔ اس کے نتیجے میںان ریاستوں سے پروازوں میں 15فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ مدھیہ پردیش میں اے ٹی ایف پر ویٹ کے مختلف سلیب ہیں، جو 4 سے 25فیصد تک ہیں۔ میں نے مدھیہ پردیش حکومت سے درخواست کی کہ اسے پوری ریاست میں ایک سے چار فیصد تک لایا جائے۔
سارنگ نے بتایا کہ کابینہ نے مکھیا منتری اُدیمی کرانتی یوجنا کو منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت 12ویں پاس نوجوانوں کو قرض فراہم کرے گی۔ اس اسکیم کے لیے 18 سے 40 سال کی عمر کے نوجوان اہل ہوں گے۔ خاص بات یہ ہے کہ اب تک حکومت ایسے قرضوں پر گارنٹی دیتی تھی لیکن اس اسکیم کے تحت حکومت بینک سود کا 3 فیصد برداشت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی یونٹس کے لیے 1 سے 50 لاکھ روپے اور سروس سے منسلک یونٹ شروع کرنے کے لیے 25 لاکھ روپے تک کا قرض فراہم کیا جائے گا۔