لاک ڈاون سے پورے ملک میں متوسط طبقہ زیادہ پریشان


بھوپال:12اپریل(نیانظریہ بیورو)
پورے ملک کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس دوران مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ 21 روز کا لاک ڈاو¿ن 14 اپریل کو مکمل ہونا ہے ، لیکن متعدد ریاستوں نے پہلے ہی فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ 14 اپریل کے بعد بھی لاک ڈاو¿ن کو جاری رکھیں گی۔وہیںکورونا کے پیش نظرمدھیہ پردیش میں بھی 14 اپریل کے بعد لاک ڈاو¿ن کی مدتمیں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی کے ساتھ بھوپال کے لوگ اس بڑھتے لا ک ڈاو¿ن کو کس نظرئےے سے دیکھتے ہےں۔ اس پرپیش ہے خاص نظرئے کی رپورٹ۔جب وزیر اعظم نریندر مودی نے وزراءاعلیٰ سے گفتگو کی کہ آگے کیا کرنا چاہئے تو یہ بھی انکشاف ہوا کہ لاک ڈاو¿ن کو بڑھایا جاسکتاہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے بھی لاک ڈاو¿ن بڑھانے کی بات کہی۔اگر لاک ڈاو¿ن آگے بڑھا تو عام لوگوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا اور عوام اس فیصلے کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ ہمارے نمائندے نے عوام تک پہنچ کر ان سے جاننے کی کوشش کی کہ آخر ان کااس پر کیا رد عمل ہے۔اسی کے ساتھ ، عام لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ چیزوں میں نرمی لانی چاہئے ، تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو کچھ راحت ملے کیونکہ لاک ڈاو¿ن کے دوران غریب خاندان کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ساتھ ہی یہ محسوس کیاجارہاہے کہ مسلسل گھرمیں بندرہنے سے لوگوں میں ڈپریشن بھی پیداہورہاہے۔ جہاں ایک جانب روز مرہ کی چیزوں میں کمی آتی دکھائی دے رہی ہے وہیں کچھ کاروباری اس وقت کافائدہ اٹھاتے ہوئے کالابازاری کررہے ہیں۔ ان سب کودیکھتے ہوئے بھوپال کی عوام کامانناہے کہ ہرروز کچھ وقت کے لئے اس لاک ڈاو¿ن میں نرمی برتی جائے تاکہ ضروری اشیاءکی فراہمی آسان ہوسکے۔ اورمتوسط طبقے کو ان پریشانیوں سے پوری نہ سہی کچھ راحت توحاصل ہو۔