پولس بے قصوروں کو رہا اور قصور وار کو گرفتار کرے: مسلم لیگ


مالیگاؤں کو بیس سال پیچھے لے آیا احتجاج میں ہوا تشدد
پرامن دستوری طرز پر احتجاج کرنا حق ہے اور ملی تنظیموں کو دہشت گرد بتانا غیر مناسب
شہر میں 6 دسمبر تک سیاسی وسماجی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا پر پولس کی نظر
مالیگاؤں (پریس ریلیز) ماضی میں ہوئے فسادات کی وجہ سے مالیگاؤں کو حساس شہر قرار دیا گیا لیکن بم دھماکوں کے بعد شہریان نے جان لیا کہ امن و بھائی چارگی زندگی سکون سے جینے کیلئے انتہائی اہم ہے. سال 2001 میں آخری فساد ہوا, سال 2006 میں بڑا قبرستان سلسلہ وار بم دھماکے اور 2008 میں بھکو چوک بم دھماکہ سے شہر لرز اٹھا اور شہر میں ایک سکونت طاری ہوگیا.
ریاست مہاراشٹر بھر میں گزشتہ جمعہ 12 نومبر 2021 کو ملی تنظیموں کے زیر اہتمام بند کا اعلان کیا گیا جس کی حمایت مختلف سیاسی پارٹیوں نے بھی کی کچھ فرقہ پرست جماعتوں کو چھوڑ کر اور یہی وجہ بھی بنی مہاراشٹر کے مسلم اکثریتی شہروں میں فسادات جیسا ماحول پیدا کیا گیا. مالیگاؤں, امراوتی, نانڈیڑ, پربھی و دیگر شہروں کے احتجاج کو خراب کرنے کی سازش کی گئی. مالیگاؤں شہر میں عوام اور پولس کے درمیان پتھراؤ کی واردات پیش آئی. جسے پولس انتظامیہ نے کنٹرول بھی کر لی لیکن بعد ازاں گرفتاریاں عمل میں آئی. اس گرفتاری میں بے قصور لوگوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا.
مالیگاؤں انڈین یونین مسلم لیگ کے زمہ داران نے شہر اے ایس پی چندر کانت کھانڈوی سے ملاقات کی. یہ مطالبہ کیا گیا کہ جو لوگ بے گناہ ہیں ان پر ایف آئی آر اور کاروائی نہ کی جائے بلکہ رہا کر دیا جائے اور جنھوں نے جرم کیا ہے انھیں سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی حرکت نہ کرے. اس گرفتاری میں جو اناؤنسر ہیں انھیں فوری طور پر رہا کیا جائے کیونکہ وہ لوگ تو اناؤنسنگ کا کام کر رہے تھے. نیز ملی تنظیموں کو جولوگ دہشت گرد قرار دے رہے ہیں مسلم لیگ اس کی مذمت کرتی ہے.
مالیگاؤں مسلم لیگ کے سرپرست ہمدانی شکیل احمد, صلاح کار اعجاز شاہین, صدر احتشام بیکری والا, جوائنٹ سیکریٹری ندیم شیخ اور دیگر اراکین کی اے ایس پی سے ملاقات کے دوران اے ایس پی نے کہا کہ 6 دسمبر 2021 تک شہر میں کسی بھی طرح کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں, اجلاس و میٹنگوں کو پولس اجازت نہیں دے گی. اس کے علاوہ سوشل میڈیا ,فیس بک, ٹیوٹر, واٹس ایپ کے گروپس پر پولس کی نظر رہے گی. فیک نیوز پھیلانے والے پر بھی قانونی کاروائی کی جائے گی. واضح رہے مسلم لیگ کی جانب سے بڑے پیمانے ہونے والے اجلاس کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے.