قبائلیوں کی روایات میں اختراع ہے : وزیراعظم


بھوپال، 15 نومبر: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج قبائلی روایات اور فنون کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس تخلیق ہے، لیکن پچھلی حکومتوں کے دوران انہیں ان کا مناسب مقام نہیں مل سکا۔
مسٹر مودی نے یہاں جمبوری میدان میں قبائلی ہیرو بھگوان برسا منڈا کے یوم پیدائش کے موقع پر جن جاتیہ گورودِوس کے تحت منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کیا۔ اس موقع پر گورنر منگو بھائی پٹیل، وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، مرکزی وزراء نریندر سنگھ تومر اور جیوتیرادتیہ سندھیا، ریاستی بی جے پی صدر وشنو دت شرما اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
اپنے تقریباً 35 منٹ کے خطاب میں مسٹر مودی نے کہا کہ قبائلی سماج میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس تقریب کے دوران لگائی گئی نمائش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قبائلی گروپ کے لوگوں کی بانس اور دیگر اشیاء سے تیار کردہ مصنوعات حیرت انگیز ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ماضی میں ان صلاحیتوں کو مناسب جگہ دینے کے لیے کوئی سیاسی عزم نہیں تھا۔ ایسی تخلیق کو بہتر مارکیٹ فراہم نہیں کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی عوام کو بانس کی کاشت کا حق ہے لیکن اس طرح کی چیزوں بھی قانونی جال میں الجھا دیا گیا تھا۔ اب ہماری حکومت نے جنگلات کے قوانین میں تبدیلی کی ہے اور بانس کی کاشت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ قبائلی تخلیق کو بین الاقوامی منڈی بھی فراہم کرایا جارہا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کے دور میں صرف 10 جنگلاتی پیداوار کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا فائدہ دیا جا رہا ہے، لیکن اب تقریباً 90 جنگلاتی پیداوار کو ایم ایس پی کے تحت لایا گیا ہے۔ قبائلی برادری کی روایات کی علامت ’موٹے اناج‘ کو پہلے ثانوی حیثیت حاصل تھی لیکن اب یہ ایک برانڈ بھی بنتا جا رہا ہے۔