اُجین میں سیلف ڈیفنس سیکھ رہی لڑکیاں:


خود کی حفاظت کےلئے تلوار و لاٹھی چلانا سیکھی،مارشل آرٹ کی تیاری
اُجین14نومبر(نیا نظریہ بیورو)اُجین اور آس پاس کے علاقوں میں لڑکیوں کو بڑھتی ہوئی چھیڑ چھاڑ اور لو جہاد سے بچانے کے لیے دبنگ ہندو سینا نے میدان سنبھالا ہے۔ اس کی وجہ سے فوج نے اُجین کے قریب ترانہ میں لڑکیوں کو سیلف ڈیفنس سکھایا۔ انہیں اپنی حفاظت کے لیے لاٹھیوں اور تلواروں کا استعمال بھی سکھایا گیا۔ اگر اسلحہ قریب نہ ہو تو ہاتھ پاو ¿ں سے حفاظت کرنے کی تربیت بھی دی گئی۔ انہیں یہ بھی بتایا جائے گا کہ بن میں موجود پن کو کس طرح استعمال کیا جائے اور اسے ہتھیار بنا کر حملہ آور سے بچایا جائے۔
دبنگ ہندو سینا کے قومی صدر اور اکھاڑہ پریشد کے سابق جنرل سکریٹری پرمہنس ڈاکٹر اودھیش پوری مہاراج نے بھاسکر سے بات چیت میں بتایا کہ اس ٹریننگ میں 9 سے 20 سال کی لڑکیوں کو تربیت دی جائے گی۔ یہ تربیت ملک بھر میں منعقد کی جائے گی۔ لڑکیوں کو مارشل آرٹ کی تربیت بھی دی جائے گی۔ کردار سازی کے ساتھ ساتھ رسومات میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ دیوی دیوتاو ¿ں نے ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے ہاتھ میں ہتھیار کیوں رکھا تھا۔
ابھی ہم تین دن کی ٹریننگ دے رہے ہیں، لیکن اس کے لیے ہم باقاعدگی سے کلاسز کا انعقاد کریں گے۔ اودھیش پوری مہاراج نے بتایا کہ دراصل حکومت اس میں قانون بنا کر بھاگ جاتی ہے۔ جب لڑکیوں پر حملہ ہوتا ہے یا کوئی انہیں بری نظر سے دیکھتا ہے تو حکومت، پولیس یا والدین بھائی انہیں بچانے کے لیے نہیں آ سکتے۔ انہیں خود اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے ہمارا پورا زور انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط بنانے پر ہے۔
ترانہ میں منعقدہ تین روزہ تربیتی کیمپ میں دبنگ ہندو سینا کے بانی لوکیش شرما اور للت پرمار نے لڑکیوں کا تربیتی کیمپ لگایا تھا۔ یہاں ٹرینر مسکان سسودیا نے لڑکیوں کو لاٹھی اور تلوار چلانے کے کرتب سکھائے۔