شادی کےلئے نئی گائڈلائن ہوئی جاری: 300مہمان ہوں سکےں گے شامل ،بارات سے بھی پابندی ہٹی


بھوپال14نومبر(نیا نظریہ بیورو)ریاست میں بہت سے جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔جب کہ بہت سے نومبر-دسمبر میں شادی کریں گے۔ مدھیہ پردیش حکومت نے شادی میں شرکت کرنے والے گھراتی باراتی کی تعداد میں بھی رعایت دی ہے۔ شادی میں اب 300 مہمانوں کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ کورونا کی مدت کے ڈیڑھ سال میں پہلی بار اتنی نرمی دی گئی ہے۔ ساتھ ہی بارات بھی نکالی جا سکتی ہے۔ تاہم شادی اور بارات کے سلسلے میں متعلقہ ایس ڈی ایم (سب ڈوےژنل آفیسر) سے اجازت درکار ہوگی۔
اس سال اپریل میں کورونا کرفیو کی وجہ سے شادیاں نہیں ہو سکیں۔ حکومت نے شادی کے گارڈن کو کئی دنوں سے بند رکھا ہوا تھا۔ بہت مانگ کے بعد جب شادی ہال یا دھرم شالہ کھلے تو مہمانوں کی تعداد 50 تھی۔ بعد میں اسے 100 تک بڑھا دیا گیا۔ 6 اکتوبر کو ہوم ڈیپارٹمنٹ نے ایک نئی گائیڈ لائن جاری کرتے ہوئے شادی میں مہمانوں کی تعداد بڑھا کر 300 کر دی۔
میرج گارڈن چلانے والوں کے مطابق مہمانوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ حکومت نے بارات کی منظوری بھی دے دی ہے تاہم شادی اور جلوس کے لیے متعلقہ علاقے کے ایس ڈی ایم سے اجازت لینا ضروری ہو گا۔ ڈی جے بھی صرف رات 10 بجے تک چلایا جا سکتا ہے۔ رات 11 بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان نافذ نائٹ کرفیو پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔ حکومت نے ابھی تک رات کا کرفیو نہیں اٹھایا۔
شادی میں بھی کورونا کی روک تھام کے لیے تمام اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر ان میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہے تو ماسک بھی پہننا ہوں گے۔
بھوپال ٹینٹ لائٹ، کیٹرس ایسوسی ایشن کے چیئرمین رنکو بھٹیجا نے کہا کہ شادیاں شروع ہوں گی، لیکن 15 نومبر سے 13 دسمبر کے درمیان لگاتار 16 مہرت ہیں۔ تقریباً 3 ہزار جوڑوں کی شادیاں ہوںگی۔